Home / دہشت گردوں سےمذاکرات ممکن نہیں: ترجمان پاک فوج

دہشت گردوں سےمذاکرات ممکن نہیں: ترجمان پاک فوج

DG ISPR Press Briefing

ترجمان پاک فوج لیفٹینننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کہتےہیں پاکستان کی سیکیورٹی کے ضامن مسلح افواج ہیں، یہ ضمانت کابل کو نہیں دینی،طالبان جنہوں نے ہمارے سیکیورٹی اہلکاروں کے سروں سے فٹ بال بنائے، ان سے مذاکرات ممکن نہیں۔

راولپنڈی میں سینئر صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا پاکستان نے کبھی افغان طالبان کی آمد پر جشن نہیں منایا۔ ہماری لڑائی دہشت گرد گروہوں، خصوصاً ٹی ٹی پی، بی ایل اے اور دیگر تنظیموں کے خلاف ہے۔
انہوں نے کہا کہ افغانستان کی شرائط ہمارے لیے معنی نہیں رکھتیں، اصل مقصد دہشت گردی کا خاتمہ ہے۔

ڈرون حملوں سے متعلق وضاحت

ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ پاکستان کا امریکا کے ساتھ کسی قسم کا ڈرون معاہدہ نہیں اور نہ ہی افغانستان سے اس معاملے پر کوئی باضابطہ شکایت موصول ہوئی ۔ ان کے مطابق امریکا کے ڈرون پاکستان سے نہیں اڑتے، اس کی وضاحت وزارت اطلاعات بھی متعدد بار کر چکی ہے۔

دہشت گردی کا گٹھ جوڑ

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے کہا کہ دہشت گردی، منشیات اور جرائم پیشہ گروہوں کا گٹھ جوڑ ہی اصل مسئلہ ہے۔ ٹی ٹی پی افغان طالبان کی ایک شاخ کے طور پر کام کر رہی ہے اور افیون کی کاشت سے حاصل ہونے والی آمدنی دہشت گردی کی کارروائیوں پر خرچ کی جاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ گروہ وار لارڈز کے ساتھ مل کر چرس، اسمگلنگ اور دہشت گردی سے پیسہ کماتے ہیں۔

آپریشنز اور قربانیاں

ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق رواں سال انسدادِ دہشت گردی کے 62 ہزار سے زائد آپریشن کیے گئے، جن میں 1,667 دہشت گرد مارے گئے جبکہ 1,073 افراد شہید ہوئے۔

ان شہداء میں آرمی کے 584 اہلکار، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے 133 اور 356 شہری شامل ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں میں افغان شہری بھی شامل ہیں، اور انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز میں ہمارے 200 کے قریب افسر اور جوان شہید ہوئے۔

سرحدی صورتحال اور افغان طالبان کا کردار

ترجمان پاک فوج نے بتایا کہ افغانستان کے ساتھ سرحد 2,600 کلومیٹر طویل ہے، جس میں ہر 25 سے 40 کلومیٹر کے فاصلے پر ایک چوکی قائم ہے۔

انہوں نے کہا کہ افغان طالبان کی حکومت دہشت گردوں کو پناہ اور سہولت فراہم کر رہی ہے۔ ہم نے طالبان قیادت سے کہا ہے کہ دہشت گردی پر قابو پانا ان کی ذمہ داری ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے الزام عائد کیا کہ افغان طالبان نے بی ایل اے اور ٹی ٹی پی کے اراکین کو اپنے ہاں بسانا شروع کردیا ہے۔

طالبان سے ہمدردی رکھنے والے افغانستان چلے جائیں

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے کہا کہ جو لوگ طالبان سے مذاکرات کی حمایت کرتے ہیں انہیں سوچنا چاہیے کہ وہ کس کے لیے آواز اٹھا رہے ہیں۔

ان کے بقول، جو لوگ افغانستان کی محبت میں اندھے ہیں، ان کے لیے بہتر ہے کہ وہ وہیں چلے جائیں۔

سیاست اور فوج

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ فوج سیاست میں مداخلت نہیں کرتی اور نہ ہی سیاسی بیانیے کا حصہ بنتی ہے۔
ان کے مطابق آرمی چیف کا اختیار ہے کہ وہ جسے چاہیں بلائیں، یہ فوج کا اندرونی معاملہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم اپنی کارکردگی پر سمجھوتہ نہیں کریں گے، فوج کو سیاست سے دور رکھا جائے۔

بھارت کو سخت جواب دینے کا اعلان

انہوں نے دعویٰ کیا کہ بھارت گہرے سمندر میں ایک اور فالس فلیگ آپریشن کی تیاری کر رہا ہے، اور خبردار کیا کہ اس بار بھارت کو پہلے سے زیادہ سخت جواب دیا جائے گا۔

نیشنل ایکشن پلان پر زور

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے صرف فوجی کارروائیاں کافی نہیں، سول انتظامیہ، سیاست دانوں، علما اور میڈیا کو بھی متحد ہو کر کام کرنا ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں کو پناہ دینے والے یا سہولت کار کسی رعایت کے مستحق نہیں۔

یہ بھی چیک کریں

DG ISPR Press Briefing on Pak Afghan border clash

آپریشن ضرب للحق، 297 افغان کارندےہلاک، 400 سےزائدزخمی

Saturday, 28 February 2026 | Web Desk آپریشن غضب للحق میں 297 طالبان رجیم کےاہلکاراورخوارج …