ویب ڈیسک ۔۔ چیئرمین بحریہ ٹاؤن ملک ریاض نے کہا ہے کہ میرا کل بھی یہ فیصلہ تھا، آج بھی یہ فیصلہ ہے، چاہے جتنا مرضی ظلم کر لو، ملک ریاض گواہی نہیں دے گا!
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر ایک بیان میں ملک ریاض نے کہا کہ پاکستان میں کاروبار کرنا آسان نہیں، قدم قدم پر رکاوٹوں کے باوجود 40 سال خون پسینہ ایک کرکے اللہ کے فضل سے بحریہ ٹاؤن بنایا، اور پاکستان میں عالمی سطح کی پہلی ہاؤسنگ اسکیم کا آغاز کیا۔ انھوں نے کہا کہ اللہ نے انہیں استقامت دی اور اپنے ممبران سے کیے گئے وعدوں کو پورا کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ان گنت رکاوٹوں اور سرکاری بیلک میلنگ نے بعض اوقات وعدوں کی تکمیل میں رکاوٹ ڈالی، لیکن میرے رب نے ہمیشہ مجھے کامیاب کیا۔ سالوں کی بلیک میلنگ، جعلی مقدمات اور افسران کی لالچ کو عبور کیا، مگر ایک گواہی کی ضد کی وجہ سے بیرون ملک منتقل ہونا پڑا۔
ملک ریاض نے کہا کہ لوگوں کی طویل خواہش تھی کہ پاکستان کا برانڈ عالمی معیار کا بنایا جائے، اور اللہ تعالی نے مجھے اس کا سبب بنایا۔ دبئی میں بحریہ ٹاؤن پراپرٹیز کا آغاز ہو چکا ہے اور دبئی کی ترقی کا راز عزت مآب شیخ محمد بن راشد المکتوم کا وژن اور نیب جیسے اداروں کا نہ ہونا ہے۔
انہوں نے کہا کہ نیب کی بے سروپا پریس ریلیز دراصل بلیک میلنگ کا نیا طریقہ ہے۔ میں ضبط کر رہا ہوں، لیکن دل میں ایک طوفان لیے بیٹھا ہوں، اگر یہ بند ٹوٹ گیا تو پھر سب کا بھرم ٹوٹ جائے گا۔ یہ مت بھولنا کہ پچھلے 25 سے 30 سال کے تمام راز ثبوتوں کے ساتھ محفوظ ہیں۔
انہوں نے یہ عزم بھی ظاہر کیا کہ ہمارا جینا مرنا ہمیشہ پاکستان کے لیے تھا، ہے اور ہمیشہ رہے گا،اپنے پاکستانی بھائیوں اور بہنوں کو یقین دلاتےہیں ہم نے پاکستان سمیت دنیا کے ہر ملک کے قوانین کی پاسداری کی ہے اور کرتے رہیں گے۔
چیئرمین بحریہ ٹاؤن نے کہا کہ ملک ریاض نہ تو کسی کے خلاف استعمال ہو گا، نہ ہی کسی سے بلیک میل ہو گا۔ انشا اللہ دبئی پروجیکٹ کامیاب ہوگا اور دبئی سمیت پوری دنیا میں پاکستان کی پہچان بنے گا۔
یاد رہےگزشتہ روز نیب کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض اور دیگر افراد کے خلاف دھوکہ دہی اور فراڈ کے کئی مقدمات زیر تفتیش ہیں۔ عوام کو بحریہ ٹاؤن کے دبئی پروجیکٹ میں سرمایہ کاری نہ کرنے کی ہدایت کی گئی تھی، اور حکومت قانونی طریقے سے ملک ریاض کی حوالگی کے لیے متحدہ عرب امارات کی حکومت سے رابطہ کر رہی ہے۔
نیب کے اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ نیب کے پاس بحریہ ٹاؤن کے مالک ملک ریاض کے خلاف سرکاری اور نجی زمینوں پر قبضے کے مضبوط شواہد موجود ہیں۔
نیب کے مطابق، ملک ریاض اور ان کے ساتھیوں نے بحریہ ٹاؤن کے نام پر کراچی، تخت پڑی راولپنڈی اور نیو مری میں زمینوں پر قبضے کیے، اور بغیر اجازت نامے کے ہاؤسنگ سوسائٹیز قائم کرتے ہوئے لوگوں سے اربوں روپے کا فراڈ کیا۔