Home / الیکٹرانک ووٹنگ مشین:ماہرین کےبڑےاعتراضات

الیکٹرانک ووٹنگ مشین:ماہرین کےبڑےاعتراضات

Experts question EVMs functionality

ویب ڈیسک ۔۔ حکومت نےپارلیمنٹ کےمشترکہ اجلاس میں عام انتخابات کیلئےالیکٹرانک ووٹنگ مشین کابل پاس توکرالیاہےلیکن کیاعملی طورپران مشینوں کااس قدربڑےپیمانےپراستعمال ممکن ہوسکےگا؟اس حوالےسےالیکشن ماہرین کےبڑےتحفظات سامنےآگئےہیں۔

قومی اخبارمیں شائع ایک رپورٹ کےمطابق آئندہ عام انتخابات کےلیےملک میں ساڑھے گیارہ کروڑسےزائدووٹرزکے لیےایک لاکھ نوےہزارسےزائد الیکٹرونک ووٹنگ مشینوں کی ضرورت پڑےگی۔

بھارت میں 2019کے انتخابات میں الیکٹرونک ووٹنگ مشینوں کے نظام پر126ارب پاکستانی روپے کے برابر پیسہ خرچ ہوا۔ ماہرین کےمطابق بھارتی انتخابات میں اس قدربڑی رقم خرچ ہونےکےباوجود اپوزیشن جماعتوں نےنتائج پرتحفظات ظاہرکئے۔

 الیکٹرنک ووٹنگ مشین کےاستعمال کابل منظور

بھارت میں اب تک 107ریاستوں کےانتخابات اورتین پارلیمانی انتخابات میں ای وی ایم کااستعمال کیاگیاہےاورانتخابات میں ووٹنگ مشین انٹرنیٹ سےمنسلک نہیں تھی۔

پاکستان میں عام انتخابات میں الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کےاستعمال پرکتناپیسالگےگا؟اس حوالےسےصورتحال بالکل بھی واضح نہیں۔

تینتیس ملکوں میں الیکٹرونک ووٹنگ مشینوں کی کچھ اقسام کا استعمال کیا گیا، کچھ ملکوں میں ان مشینوں کی شفافیت پر تحفظات بھی سامنےآئے۔

مشترکہ اجلاس : عامرلیاقت حسین کامتنازعہ بیان

یہ بھی چیک کریں

Corona's new variant and NCOC statement

کوروناکی نئی قسم:حکومت نےہاتھ کھڑےکرئیے

ویب ڈیسک ۔۔ حال ہی میں جنوبی افریقہ میں دریافت ہونےوالی کوروناکی نئی اورسب سےخطرناک …