Sunday, 09 November 2025 | Web Desk
ان دنوں ملک میں 27ویں آئینی ترمیم کاچرچاہے۔ اخبارات اورٹیلی وژن کی ہیڈلائنزمیں بھی اس حوالےسےخبریں سرفہرست ہیں ۔ اس ترمیم کواگرپارلیمنٹ سےمنظورکروالیاجاتاہےتواس سےسپریم کورٹ اورہائی کورٹ کےججزکےتبادلےکااختیارجوڈیشل کمیشن کومل جائےگا۔ مجوزہ ترمیم کےمطابق اگرکوئی جج ٹرانسفرماننےسےانکارکرےگاتواسےریٹائرتصورکیاجائےگا۔
مجوزہ 27 ویں آئینی ترامیم کے عدلیہ سےمتعلق نکات کےمطابق، مجوزہ آئینی ترمیم میں قانون سے متعلق معاملہ سپریم کورٹ کو بھیجنے کی شق ختم کر دی گئی، از خود نوٹس سے متعلق 184 بھی حذف کر دی گئی جبکہ وفاقی آئینی عدالت کا جج 68 سال کی عمر تک عہدے پررہے گا، آئینی عدالت کا چیف جسٹس اپنی تین سالہ مدت مکمل ہونے پر ریٹائر ہو جائے گا۔
صدر آئینی عدالت کے کسی جج کو قائم مقام چیف جسٹس مقرر کرے گا، آئینی کورٹ یا سپریم کورٹ کے پاس ہائی کورٹ سے کوئی اپیل یا کیس اپنے پاس یا کسی اور ہائی کورٹ ٹرانسفر کرنے کا اختیار ہوگا، وفاقی آئینی کورٹ کے فیصلے کی سپریم کورٹ سمیت پاکستان کی تمام عدالتیں پابند ہوں گی۔
پیپلزپارٹی نےترمیم کی اہم شقیں مستردکردیں
مجوزہ آئینی ترمیم کے تحت ہائی کورٹ کا کوئی جج وفاقی آئینی عدالت یا سپریم کورٹ میں تقرری کو قبول نہیں کرے گا تو ریٹائرتصور ہوگا، سپریم کورٹ کا کوئی جج وفاقی آئینی عدالت کا جج بننے سے انکار کرے گا تو ریٹائر تصور ہوگا، صدر سپریم کورٹ کے ججز میں سے وزیراعظم کی ایڈوائس پر وفاقی آئینی کورٹ کا پہلا چیف جسٹس تقرر کرے گا اور وفاقی آئینی عدالت کے پہلے ججز کا تقرر صدر وزیر اعظم کی ایڈوائس پر چیف جسٹس فیڈرل آئینی کورٹ کی مشاورت سے کرے گا۔