Friday, 19 December 2025 | Web Desk
بنگلا دیش میں نوجوان سیاسی رہنما شریف عثمان ہادی کی موت کے بعد ملک بھر میں شدید احتجاج اور پرتشددمظاہرےپھوٹ پڑے۔ دارالحکومت ڈھاکا میں مشتعل افراد نےعوامی لیگ اور میڈیا اداروں کے دفاتر کو آگ لگا دی، توڑ پھوڑکرکے اہم سڑکیں بند کردیں۔
احتجاج کرنےوالوں کاکہناتھاوہ عثمان ہادی کےقاتلوں کی گرفتاری تک احتجاج جاری رکھیں گے۔ مظاہروں کے پیش نظرحکومت نے مختلف علاقوں میں سکیورٹی سخت کر دی۔
عثمان ہادی رواں سال جولائی میں شیخ حسینہ واجد حکومت کا تختہ الٹنے والی طلبہ تحریک کے اہم رہنما تھے اور طلبہ رہنماؤں کے قائم کردہ سیاسی پلیٹ فارم انقلاب منچہ کے ترجمان بھی رہے۔
انہیں گزشتہ جمعے کو ڈھاکا میں نامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے شدید زخمی کردیا تھا۔ عثمان ہادی کی حالت تشویشناک ہونےپرانہیں ہفتے کے روز سنگاپور منتقل کیا گیا لیکن وہ دوران علاج انتقال کرگئے۔
مسلمان خاتون کی بےحرمتی، وزیراعلیٰ بہارپرمقدمہ درج
بنگلادیشی حکام کا کہنا ہے کہ قاتل کی شناخت فیصل کریم مسعود کے نام سے کی گئی ہےجبکہ موٹرسائیکل چلانے والے کی شناخت عالمگیر شیخ کے نام سے کی گئی۔ یہ دونوں مشتبہ افراد بھارت کی سرحد سے غیرقانونی طور پر داخل ہوئےاورواپس بھارت فرار ہوگئے۔
Angry crowds set fire to the headquarters of Bangladesh’s leading English-language newspaper, The Daily Star, in Dhaka tonight, amid heightened political tensions following the killing of Bangladeshi youth leader Osman Hadi.
— 5Pillars (@5Pillarsuk) December 18, 2025
The building’s ground floor was set ablaze, forcing… pic.twitter.com/iRidAvcJHt