Saturday, 28 February 2026 | Web Desk
امریکہ اوراسرائیل نےایران پرمشترکہ حملہ کردیا ۔ ملکی وغیرملکی میڈیاکی خبروں کےمطابق تہران میں مختلف مقامات پرتین دھماکےہوئے۔ امریکی عہدیدارنےایران پرحملےکی تصدیق کردی اوریہ بتایاکہ امریکہ اوراسرائیل نےمل کرایران پرحملہ کیاہے۔
امریکی صدرکابیان
امریکی صدرٹرمپ کابیان بھی اس حوالےسےسامنےآگیاہے، انہوں نےکہاہےکہ امریکہ نےایران پربڑاحملہ کردیاہے۔ ہمارامقصدایرانی حکومت سےآنےوالےخطرات کوکم کرکےامریکی عوام کاتحفظ یقینی بناناہے۔ انہوں نےکہاکہ ایران جوہری ہتھیارنہیں رکھ سکتا۔ انہوں نےکہاکہ ہم ایران کےمیزائل اورمیزائل انڈسٹری کومکمل تباہ کردیں گے۔ امریکی صدرنےکہاکہ ہم ایرانی بحریہ کوختم کرنےجارہےہیں ۔ ایران دنیامیں دہشت گردی کاسب سےبڑاحامی ہے۔ اس دہشت گردرجیم کےپاس جوہری ہتھیاررکھنےکاکوئی جوازنہیں۔ ہم یقینی بنائیں گےکہ ایران کبھی جوہری قوت نہ بن سکے۔ ایرانی پاسداران انقلاب کوکھلی دھمکی دیتےہوئےامریکی صدرنےکوئی لگی لپٹی رکھےبغیرکہاکہ یاتوہتھیارپھینک کرسرنڈرکردویایقینی موت کیلئےتیارہوجاو۔ انہوں نےایرانی عوام سےخطاب کرتےہوئےکہ کہ ایک بڑاروشن مستقبل آپ کامنتظرہے، اس موقع کوجانےنہ دیجئے۔
ایران کاردعمل
ایران نےحملوں کےجواب میں کہاہےکہ ہم جواب دینےکی تیاری کررہےہیں ۔ ہماراجواب بہت سخت ہوگا۔ ایران کےحوالےسےیہ خبربھی سامنےآئی ہےکہ سپریم لیڈرآیت اللہ علی خامنہ ای کومحفوظ مقام پرمنتقل کردیاگیاہے۔
ماہرین کاردعمل
ملیحہ لودھی
عالمی امورکی ماہراوراقوام متحدہ میں پاکستان کی سابق نمائندہ ملیحہ لودھی نےکہاکہ یہ بالکل گزشتہ سال کی طرح ہواہے،امریکہ نےایران کومذاکرات میں الجھاکراس پرحملہ آورہواہے۔ اس وقت بھی جنیوامیں ایران اورامریکاکےدرمیان مذاکرات ہورہےتھےاوران میں پیشرفت کی خبریں بھی آرہی تھیں ۔ ملیحہ لودھی نےامریکی حملےپرحیرانگی کااظہارکرتےہوئےکہاکہ اب کوئی بھی امریکہ کی موجودہ انتظامیہ پراعتبارنہیں کرےگا۔
اعزازچودھری
پاکستان کےسابق سیکرٹری خارجہ اعزازچودھری نےکہاکہ اس صورتحال میں روس اورچین کچھ نہیں کریں گےکیونکہ ان کےایساکرنےسےعالمی جنگ چھڑنےکاخطرہ ہے۔
محمدعلی
عالمی امورکےماہرمحمدعلی نےکہاکہ عرب ملکوں نےایران کویقین دہانی کرائی تھی کہ اس پرحملےکیلئےعرب سرزمین کااستعمال نہیں کیاجائےگا۔ اب دیکھناہےکہ یہ حملےکیسےاورکہاں سےکئےجارہےہیں۔ انہوں نےخدشہ ظاہرکیاکہ امریکی اوراسرائیلی حملوں کامقصدایران کی اعلیٰ سیاسی ومذہبی قیادت کونشانہ بناناہے۔ کیونکہ اگرایٹمی تنصیبات کوتباہ کرناہوتاتووہ حملےایٹمی تنصیبات کونشانہ بناتا۔
شاہزیب خانزادہ
سینئرصحافی اورتجزیہ کارشاہزیب خانزادہ نےکہاکہ ایران کیلئےحملوں کاجواب دینےکاکوئی آپشن نہیں لیکن اگرایساہوتاہےتواس سےجنگ بڑھ جائےگی ۔ امریکہ ایران پرحملےبڑھادےگا۔