Home / ایران پربنکربسٹربموں سےحملےکاخوفناک منصوبہ

ایران پربنکربسٹربموں سےحملےکاخوفناک منصوبہ

US my strike Iran's Fordo nuclear power plant

ویب ڈیسک: نیویارک ٹائمز کی رپورٹ پر مبنی خصوصی رپورٹ

ایران اور اسرائیل کے درمیان تیزی سے بھڑکتے تنازع کے دوران، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایک انتہائی اہم فیصلہ کرنے کے قریب ہیں: کیا وہ اس جنگ میں براہِ راست کودیں اور ایران کی زیرِ زمین فورڈو نیوکلیئر تنصیب کو تباہ کرنے کے لیے "میسیو آرڈیننس پینیٹریٹر” (GBU-57) بم استعمال کریں — ایک ایسا ہدف جسے صرف امریکی B-2 بمبار طیارے نشانہ بنا سکتے ہیں۔

فیصلہ کن لمحہ

اگر ٹرمپ نے حملے کی منظوری دی، تو امریکا براہِ راست جنگ کا فریق بن جائے گا، جو ان کے انتخابی وعدوں کے خلاف ہوگا کہ وہ مشرق وسطیٰ کی نئی جنگوں سے دور رہیں گے۔

سفارتی کوششیں

ٹرمپ نے پیر کے روز دعویٰ کیا کہ ایران مذاکرات کی میز پر آ چکا ہے۔
پس پردہ، امریکی نمائندے اسٹیو وٹکوف اور نائب صدر جے ڈی وینس ممکنہ سفارتی رابطے تلاش کر رہے ہیں۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اشارہ دیا ہے کہ ایران بات چیت کے لیے تیار ہے — بشرطیکہ امریکا اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو کو قابو میں رکھے۔

عسکری حقیقت

اسرائیل تنہا فورڈو کو تباہ نہیں کر سکتا، کیونکہ اس کے پاس نہ تو مطلوبہ طیارے ہیں اور نہ ہی وہ ہتھیار۔
GBU-57 واحد بم ہے جو اس گہرائی تک پہنچ سکتا ہے، اور یہ صرف امریکی فورسز کے ذریعے ہی استعمال ہو سکتا ہے۔
ایسا حملہ کئی مربوط کارروائیوں پر مشتمل ہوگا، جنہیں امریکی B-2 بمبار طیارے انجام دیں گے۔

تقسیم شدہ رائے

ریپبلکن جماعت میں جنگ کے حامی افراد، جیسے سینیٹر لنزے گراہم، اسرائیل کو مکمل عسکری مدد دینے کے حق میں ہیں۔
جبکہ دوسری طرف قدامت پسند اور تنہائی پسند آوازیں، جیسے ٹکر کارلسن، خبردار کر رہے ہیں کہ امریکا کو “ایک اور نہ ختم ہونے والی مشرق وسطیٰ کی جنگ” میں نہ گھسیٹا جائے۔
پینٹاگون میں بھی رائے منقسم ہے — کچھ ایران کو بڑا خطرہ سمجھتے ہیں، جبکہ دوسرے سمجھتے ہیں کہ امریکا کو اپنی توجہ چین اور بحرالکاہل پر مرکوز رکھنی چاہیے۔

1. فورڈو: ایک حساس مرکز
فورڈو کوئی عام تنصیب نہیں، بلکہ ایران کی نیوکلیئر صلاحیت کا مرکز ہے۔ ماہرین کے مطابق، اگر اسے نہ روکا گیا تو ایران دوبارہ افزودگی کی صلاحیت حاصل کر سکتا ہے، جو کہ ایک مستقل جوہری خطرے کو زندہ رکھتا ہے۔

2. ٹرمپ کا توازن قائم رکھنے والا رویہ
ٹرمپ اس وقت ایک پالیسی دھند میں چل رہے ہیں:

  • وہ دباؤ ڈالنا چاہتے ہیں مگر مکمل فوجی مداخلت سے گریز بھی۔
  • وہ دو متضاد طبقات کو مطمئن رکھنا چاہتے ہیں: اسرائیل نواز جارح پسند اور "جنگ مخالف” میگا حامی۔
  • یہ ابہام وقتی طور پر سیاسی لحاظ سےفائدہ مند ہے۔

3. ایران کی محتاط سفارتکاری
ایران کی جانب سے عباس عراقچی کا پیغام بڑا سوچا سمجھا تھا: اگر اسرائیل کو روکا جائے تو بات ممکن ہے۔ یہ گیند اب ٹرمپ کے کورٹ میں ہے، جو ایک محدود لیکن ممکنہ سفارتی راستہ فراہم کرتا ہے۔

4. عالمی و اسٹریٹجک نتائج
امریکا کی جانب سے فورڈو پر حملہ جنگ کو شدید بڑھا دے گا۔
یہ کسی ممکنہ نیوکلیئر معاہدے کی امید کو ختم کر سکتا ہے۔
اس سے پورے خطے میں جنگ بھڑک سکتی ہے، جس کے اثرات امریکی فوجی اڈوں، اتحادی ممالک اور عالمی توانائی منڈیوں پر بھی مرتب ہوں گے۔

5. پینٹاگون کے اندر تناؤ
کچھ دفاعی ماہرین ایران کو ایک فوری خطرہ سمجھتے ہیں، جبکہ دیگر کا ماننا ہے کہ مشرق وسطیٰ پر توجہ امریکا کو اس کے اصل حریف — چین — سے ہٹاتی ہے، خاص طور پر بحرالکاہل کے علاقے میں۔

نتیجہ

نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، صدر ٹرمپ ایک ایسے فیصلے کے دہانے پر ہیں جو نہ صرف مشرق وسطیٰ میں موجودہ جنگ کا رخ طے کرے گا بلکہ ان کی صدارتی مدت کا بھی اہم سنگِ میل بنے گا۔
چاہے وہ "دباؤ کے ذریعے سفارتکاری” کا راستہ اختیار کریں یا "براہِ راست عسکری کارروائی” کا، یہ فیصلہ آنے والے برسوں تک امریکی خارجہ پالیسی کا رخ متعین کر سکتا ہے۔

ماخذ: نیویارک ٹائمز، جون 2025

یہ بھی چیک کریں

Iran reaction over US president Trump threat

ایرانی فوج کی انگلیاں ٹریگرپر۔۔۔

Thursday, 29 January 2026 | Web Desk ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی صدر …