تاریخ: 19 مئی 2025 | تحریر: نیوز میکرز ویب ڈیسک
حالیہ لڑائی میں پاکستان کےہاتھوں سبکی اٹھانےکےبعدبھارتی حکومت اپناغصہ عام شہریوں پرنکالنےلگی۔ مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں کےگھروں کوبلڈوزکرنےکےبعدمتعدد افراد کو پاکستان کیلئےجاسوسی کرنےکے الزامات میں گرفتارکرلیاگیا۔
انہی میں ایک نام شہزاد ہے، جو اتر پردیش سے تعلق رکھنے والے ایک تاجر ہیں۔ ان کی گرفتاری اسپیشل ٹاسک فورس (STF) نے کی ہے، اور ان پر الزام ہے کہ وہ پاکستانی خفیہ ایجنسیوں کے لیے جاسوسی کر رہے تھے۔ حکام کا کہنا ہے کہ خفیہ اطلاعات کے مطابق شہزاد سرحد پار اسمگلنگ اور دیگر خفیہ سرگرمیوں میں ملوث تھے۔ یہاں ہم بتاتےچلیں کہ شہزادنےحال ہی میں اپنےیوٹیوب چینل پربھارت کےآپریشن سندورپرکڑی تنقیدکی تھی۔
بھارتی حکام کےالزامات کےمطابق، شہزاد نے کاسمیٹکس، کپڑے اور مصالحہ جات کی اسمگلنگ کو بطورآڑاستعمال کیا اور اسی کاروبار کی آڑ میں مبینہ طور پر خفیہ سرگرمیوں کو انجام دیا۔ ان پر الزام لگایاگیاہے کہ وہ بھارت میں کام کرنے والے پاکستانی ایجنٹوں کو سم کارڈز اور مالی معاونت فراہم کرتے رہے۔ اس کےعلاوہ رامپور اور گردونواح سے افراد کو خفیہ ایجنسی کے لیے بھرتی کرنے میں مدد دیتے۔
یہ گرفتاری اس وقت سامنے آئی ہے جب حال ہی میں ہریانہ سے تعلق رکھنے والی یوٹیوبر جیوتی ملہوترا، جو Travel with JO کے نام سے چینل چلاتی ہیں، پر بھی پاکستان کو حساس معلومات فراہم کرنے کا الزام عائد کیا گیا۔ بھارت میں انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ یہ سراسر من گھڑت اور سیاسی بنیادوں پر کیاجارہاہے۔
ایک اورواقعےمیں، ڈاکٹر علی خان محمودآباد، جو اشوکا یونیورسٹی میں ایسوسی ایٹ پروفیسر ہیں، کو اس وقت حراست میں لیا گیا جب انہوں نے سوشل میڈیا پر فوجی آپریشن سندور پر تنقیدی پوسٹ کی۔ ان کی پوسٹ میں آپریشن کے سرکاری بیانیے پر سوال اٹھایا گیا اور انسانی جانوں کے نقصان پر جواب دہی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
ان واقعات نے انسانی حقوق کی تنظیموں اور سول سوسائٹی میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے، جو سمجھتی ہیں کہ بھارت میں قومی سلامتی کے قوانین کا استعمال آزادیٔ اظہار، اختلافِ رائے، اور علمی آزادی کو دبانے کے لیے بڑھتا جا رہا ہے۔