ویب ڈیسک ۔۔ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ حکومت محصولات کے نظام کو شفاف بنانے، چوری روکنے اور تجارت و سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے اہم اقدامات کر رہی ہے۔ بزنس ریکارڈر کے مطابق، وزیر خزانہ نے اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں ایک تقریب کے دوران اس عزم کا اعادہ کیا کہ ریونیو کے ڈھانچے کو ڈیجیٹلائز کیا جائے گا تاکہ لیکیجز کو کم کیا جا سکے اور کاروباری سہولت فراہم کی جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت ڈیٹا انالیٹکس کے ذریعے ممکنہ ٹیکس فراڈ کی نشاندہی کر رہی ہے اور مختلف کمپنیوں کی آمدنی اور سیلز ٹیکس کے اعداد و شمار کو پہلے ہی شعبہ جات کے حساب سے مرتب کر چکی ہے۔
مشروبات کے شعبے میں سیلز ٹیکس ایڈجسٹمنٹ میں بے قاعدگیاں
وزیر خزانہ نے مشروبات کے شعبے کی مثال دیتے ہوئے بتایا کہ مختلف کمپنیوں کی جانب سے کی گئی سیلز ٹیکس ایڈجسٹمنٹ میں واضح فرق موجود ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ کوکا کولا کمپنی نے اپنی بینچ مارک ایڈجسٹمنٹ کی شرح 7 فیصد مقرر کی ہے، لیکن دیگر کمپنیاں اس شرح کو 20 فیصد تک لے گئی ہیں۔
بزنس ریکارڈر کے ذرائع کے مطابق، ایف بی آر کے چیئرمین نے انکشاف کیا کہ مشروبات کے شعبے سے منسلک 16 کیسز، جو کل رپورٹ شدہ فروخت کا 99 فیصد ہیں، کے تجزیے میں معلوم ہوا کہ مالی سال 2023-24 کے دوران ان کیسز میں 15 ارب روپے کے اضافی ان پٹ ٹیکس ایڈجسٹمنٹ کے دعوے کیے گئے، جو صنعتی معیار سے کہیں زیادہ ہیں۔
جعلی ان پٹ ٹیکس کے ذرائع
ایف بی آر کی رپورٹ کے مطابق، جعلی یا مشکوک ان پٹ ٹیکس کا سب سے بڑا ذریعہ چینی، پلاسٹک، اور خدمات کی خریداری پر دعویٰ کرنا ہے۔ حکومت ان غیر قانونی دعووں کو روکنے کے لیے جامع اصلاحات متعارف کروا رہی ہے۔
(یہ رپورٹ بزنس ریکارڈر کی معلومات پر مبنی ہے۔)