Updated: July 31, 2025 | Web Desk
حکومت رواں مالی سال 2021کےبجٹ میں غیرمنقولہ جائیدادکی فروخت سےحاصل ہونےوالےپچاس لاکھ یااس سےزائدآمدنی پرکیپیٹل گین ٹیکس لگانےاورپراپرٹی ٹیکسیشن کوروایتی نظام کےتحت لانےپرغورکررہی ہے۔
رئیل اسٹیٹ کےکاروبارسےوابستہ افرادنےحکومت کی اس تجویزکوناقابل عمل قراردیتےہوئےاس پراپنےتحفظات سےوزیراعظم آفس میں ہونےوالی ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ میں حکام کوکوآگاہ کردیاہے۔
فنانس بل 22-2021میں غیرمنقولہ جائیداد کی فروخت سےحاصل ہونےوالی پچاس لاکھ روپےیازائدآمدنی پرحکومت نےماضی کےبرعکس فلیٹ پانچ فیصدکیپیٹل گین ٹیکس لگانےکی تجویزدی ہے۔ ماضی میں یہ شرح 2.5سے10فیصدکےدرمیان تھی ۔
رئیل اسٹیٹ کےکاروبارسےجڑےلوگوں نےحکومت کی اس تجویزکویکسرمستردکردیاہےکیونکہ انکےمطابق حکومت کےاس اقدام سےٹیکسوں کانظام جسےحکومت بہتربناناچاہتی ہےاوربھی بگڑجائےگا۔
کیپٹل گین ٹیکس کی شرح میں کمی کافیصلہ۔۔۔
فیڈریشن آف رئیلٹرزپاکستان کےمطابق ایک طرف توحکومت پراپرٹی ٹیکسیشن کونارمل رجیم کےتحت کرناچاہتی ہےاوردوسری جانب وہ پراپرٹی کی فروخت سےحاصل ہونےوالی آمدنی پرکیپیٹل گین ٹیکس بھی لگاناچاہتی ہے۔ اس طرح توپراپرٹی کےکاروبارسےجڑےلوگ مختلف ٹیکس سلیب کی زدمیں آجائیں گے۔
پراپرٹی کاکاروبارکرنےوالوں کےمطابق انہیں اس بات کی سمجھ نہیں آرہی کہ اعلیٰ حکومتی عہدیداروں کےسامنےاپنےتحفظات رکھنےاوراس ٹیکس تجویزکومستردکرنےکےباوجودکیوں اسےبجٹ میں شامل کیاگیا؟ اس کےباوجودانہیں امیدہےکہ اس ٹیکس تجویزکوواپس لےلیاجائےگا؟