July 25, 2025 | Web Desk
حکومت کےٹیکس اکٹھاکرنےوالےادارےایف بی آرکےایک سینئرممبر نےہوشرباانکشاف کرتےہوئےکہاہے کہ گزشتہ دو مالی سالوں کے دوران 2.25 کھرب روپے کی ٹیکس چوری جعلی اور ‘اڑتی’ انوائسز کے ذریعے کی گئی، جو محصولاتی نظام کی کمزوریوں کو ظاہر کرتا ہے۔
کیا ہیں یہ جعلی اور "اڑتی” انوائسز؟
ایف بی آر کے مطابق، جعلی انوائسز وہ ہوتی ہیں جن میں کاروباری لین دین صرف کاغذوں میں ظاہر کیا جاتا ہے تاکہ ٹیکس کی بچت کی جا سکے۔ "اڑتی” انوائسز ایسی فرضی دستاویزات ہوتی ہیں جن کے پیچھے کوئی اصل کاروباری سرگرمی نہیں ہوتی۔
ٹیکس چوری کی تفصیلات
ممبرایف بی آرکاہوش اڑادینےوالا انکشاف
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائےخزانہ کوبریفنگ دیتےہوئےممبرایف بی آرنےبتایاکہ سال 2023-24 میں 873 ارب روپے کی جعلی/اڑتی انوائسز پکڑی گئیں۔
- اس سے پچھلے سال 2022-23 میں 1.37 کھرب روپے کا فراڈ سامنے آیا۔
- مجموعی طور پر دو سال میں 2.25 کھرب روپے کی ٹیکس چوری ہوئی۔
ان کاکہناتھایہ رقم کسٹمز کے ذریعے جمع ہونے والے کل ٹیکس کا تقریباً ایک تہائی بنتی ہے۔
اجلاس میں قائمہ کمیٹی کےارکان نےایف بی آر کو دیے گئے گرفتاری کے اختیارات پر شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا۔ واضح رہےکہ ان اختیارات کےتحت اگر کسی اسسٹنٹ کمشنر کو شبہ ہو کہ:
- ٹیکس چوری ہو رہی ہے،
- ریکارڈ میں رد و بدل کیا جا رہا ہے،
- یا مشتبہ شخص ملک سے فرار ہو رہا ہے،
تو وہ گرفتاری کا اختیار رکھتا ہے۔ تاہم فنانس بل 2025-26 میں اس قانون میں متعدد حفاظتی اقدامات شامل کیے گئے ہیں تاکہ کاروباری طبقے کو ہراساں نہ کیا جا سکے۔
ڈیجیٹل فراڈکوروکیں؛کمرشل بینکوں کوسخت وارننگ
ایف بی آر کا اندرونی احتساب
ممبرایف بی آرحمید عتیق سرور نے بتایا کہ:
- ٹیکس افسران کی طرف سے اختیارات کے غلط استعمال پر ان کے خلاف کارروائی کی گئی۔
- "ایسا احتساب کسی اور وفاقی یا صوبائی ادارے نے نہیں کیا۔”
وزیر مملکت برائے خزانہ و محصولات بلال اظہر کیانی کا بیان:
- وزیراعظم نے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی ہے تاکہ کاروباری برادری کے تحفظات کا ازالہ کیا جا سکے۔
- ایک ریویو اینڈ ریڈریسل کمیٹی بھی قائم کی گئی ہے جو وقتاً فوقتاً مسائل کا جائزہ لے گی۔
- جلد ہی ایک سرکلر جاری کیا جائے گا جو چیمبرز کی نشاندہی کردہ خامیوں کو واضح کرے گا۔
سینیٹر سلیم مانڈوی والا (چیئرمین کمیٹی) اور دیگر اراکین نے اس پر اتفاق کیا کہ:
- فنانس بل کی منظوری کے محض ایک ماہ بعد اس میں ترمیم کی کوششیں اچھی حکمت عملی نہیں ہو گی، خاص طور پر جب کہ یہ بل آئی ایم ایف کی منظوری سے مشروط ہے۔
فنانس بل پر اثرات اور تحفظات
ایف بی آر کے رکن ڈاکٹر نجیب کا تبصرہ:
- بل کی منظوری سے پہلے اور بعد میں بہت فرق آیا کیونکہ مختلف اسٹیک ہولڈرز (پارلیمنٹرینز، اتحادی جماعتیں) کی طرف سے دباؤ تھا۔
- اسٹینڈنگ کمیٹیوں کے ساتھ وسیع مشاورت کے باعث وقت کی کمی ہوئی اور "اینوملی کمیٹی” اپنی مکمل سفارشات نہ دے سکی۔
- تاہم، "خوف کا جو ماحول پیدا کیا جا رہا ہے، وہ غیر ضروری ہے۔”
نتیجہ
جعلی اور فرضی انوائسز کے ذریعے اربوں روپے کی ٹیکس چوری ایک انتہائی تشویشناک امر ہے جو نظام کی شفافیت اور ٹیکس دہندگان کا اعتماد متزلزل کرتا ہے۔ تاہم، قانونی اصلاحات، احتساب کے عمل اور کاروباری طبقے سے مشاورت حکومت کے ان اقدامات کو متوازن بناتے ہیں جن کا مقصد محصولات میں اضافہ اور معیشت کا استحکام ہے۔