Updated: July 29, 2025
اسٹیٹ بینک آف پاکستان نےکمرشل اورمائیکروفنانس بینکوں کوواضح الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ اگر انہوں نے سوشل انجینئرنگ اور دیگر ڈیجیٹل فراڈز کے خلاف بروقت اقدامات نہ کیے تو اکاؤنٹ ہولڈرز کوہونےوالےمالی نقصان کی مکمل بھرپائی متعلقہ بینک کوکرناہوگی۔
اسٹیٹ بینک نے جمعرات کو جاری کردہ بیان میں کہا:
اگر بینک کسی صارف کے اکاؤنٹ سے فراڈ کی صورت میں ڈیجیٹل چینلز کو بلاک کرنے، تنازعہ رجسٹر کروانے یا دیگر ضروری کنٹرول اقدامات میں تاخیر کرے، تو انہیں کسٹمرکو مکمل زرِ تلافی ادا کرنا ہوگا۔
فراڈ کیسز میں خطرناک اضافہ
بینکنگ محتسب کی رپورٹ کے مطابق، ڈیجیٹل ٹرانزیکشنز کے ذریعے کیے گئے فراڈ کی شکایات میں خطرناک حد تک اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق، صارفین کی عدم آگاہی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے جعلساز نت نئے طریقوں سے شہریوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔
بینکوں کیلئے نئی ہدایات اور حفاظتی اقدامات
اسٹیٹ بینک نے تمام بینکوں کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ سوشل انجینئرنگ، سم سواپ، جعلی کالز، شناختی چوری، غلط رجسٹریشن جیسے ہتھکنڈوں کے خلاف مؤثر کنٹرول میکانزم تیار کریں۔
اسٹیٹ بینک کےبیان کےمطابق:
یہ اقدامات اسٹیٹ بینک کے اُس وسیع تروژن کا حصہ ہیں جس کے تحت پاکستان میں ڈیجیٹل مالی شمولیت کو فروغ دینا اور صارفین کا اعتماد بحال کرنا ہے۔
ڈیجیٹل ٹریڈاورای کامرس سےمتعلق خوشخبری
نئی گائیڈ لائنز: بینک 31 دسمبر 2023 تک عملدرآمد کے پابند
اسٹیٹ بینک نے تمام بینکوں کو ایک مفصل ہدایت نامہ جاری کیا ہے جس کے تحت انہیں اپنی ڈیجیٹل پراڈکٹس اور سروسز کے تحفظ کے لیے مکمل حفاظتی نظام وضع کرنا ہوگا۔
- بینکوں کو ڈیجیٹل فراڈ سے بچاؤ کی پالیسی مرتب کرنے اور اس کی صارفین تک مؤثر ترسیل کو یقینی بنانے کی ہدایت دی گئی ہے۔
- اس کے ساتھ ساتھ صارفین کی شکایات کے ازالے کا عمل بھی بہتر اور مؤثر بنایا جائے گا۔
دو گھنٹے کی پابندی: فوری کیش آؤٹ یا ٹاپ اپ پر روک
ایک اہم قدم کے طور پر، اسٹیٹ بینک نے برانچ لیس بینکنگ (یعنی ای والٹس) فراہم کرنے والے اداروں کو ہدایت کی ہے کہ:
کسی بھی موصول شدہ رقم پر دو گھنٹے تک کیش نکالنے، موبائل ٹاپ اپ یا آن لائن خریداری کی اجازت نہ دی جائے تاکہ فراڈ شدہ رقوم فوری طور پر بینکاری نظام سے باہر نہ نکل سکیں۔