Friday, 14 November 2025 | Web Desk
ستائیسویں آئینی ترمیم کےخلاف سپریم کورٹ کے سینئرترین جج جسٹس منصور علی شاہ اورجسٹس اطہرمن اللہ نےبطوراحتجاج استعفیٰ دےدیا۔ میڈیاکی خبروں کےمطابق دونوں جج صاحبان نےسپریم کورٹ میں اپنےچیمبرزبھی خالی کردئیے۔
صدرمملکت آصف زرداری کوبھجوائےگئےاستعفےمیں جسٹس منصورعلی شاہ نےلکھاکہ میں نےعزت اورایمانداری کےساتھ ادارےکی خدمت کی ۔ 27 ویں آئینی ترمیم آئین پاکستان پر سنگین حملہ ہے۔ اس نے سپریم کورٹ آف پاکستان کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا۔ اس ترمیم نےعدلیہ کو حکومت کاماتحت بنادیا۔ 27 ویں ترمیم نے ہماری آئینی جمہوریت کی روح پر کاری ضرب لگائی ہے۔
اپنے13صفحات پرمشتمل استعفےمیں جسٹس منصورنےلکھا کہ 27ویں ترمیم سے انصاف عام آدمی سےدور،کمزور طاقت کےسامنے بےبس ہوگیا۔ جس عدالت سے آئینی کردار ہی لے لیاجائےاس میں رہ کر حلف کی پاسداری ممکن نہیں۔
27ویں ترمیم نے قوم کی اعلیٰ عدالت کی یکجہتی کو توڑ کرعدلیہ کی آزادی اور دیانت کو مجروح کر دیااور ملک کو دہائیوں پیچھے دھکیل دیا ہے۔ آئینی نظام کی ایسی بگاڑ ناقابل برداشت ہے اور وقت کے ساتھ اسے پلٹا جائےگا۔ عدالت کے جج کے طور پر میرے سامنے صرف دو راستے کھلے ہیں۔ ایک راستہ ایسے نظام کے اندر رہنا ہے جو اس ادارے کی بنیاد کو کمزور کرتا ہے۔ دوسرا راستہ اس کی غلامی کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے الگ ہو جانا ہے۔
واضح رہےکہ جسٹس منصور علی شاہ نے 27 ویں آئینی ترمیم پر تحفظات کا اظہار کرتےہوئےچیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس یحییٰ آفریدی کو 2 خطوط بھی لکھے تھے۔
جسٹس اطہر من اللہ نےاپنےاستعفےمیں لکھاکہ میرا حلف کسی فرد یا ادارے سے نہیں، بلکہ آئین پاکستان سے تھا، 27 ویں آئینی ترمیم سے قبل میں نے اُس وقت کے چیف جسٹس آف پاکستان کو ایک خط لکھا تھا، خط میں اس ترمیم کے ممکنہ اثرات پر آئینی تشویش ظاہر کی تھی۔ اس وقت کےخدشات آج حقیقت کاروپ دھارچکےہیں۔
جسٹس اطہر من اللہ نےاستعفےمیں مزیدلکھاکہ آئین، جس کی پاسداری کا میں نے حلف لیا تھا، اب موجود نہیں رہا، خودکو یہ یقین دلانے کی کتنی ہی کوشش کروں، حقیقت یہی ہے آئین کی روح پر حملہ ہو چکا ہے، نئے ڈھانچے جن بنیادوں پر تعمیر ہو رہے ہیں، وہ آئین کے مزار پر کھڑے ہیں، جو عدالتی چُغے ہم پہنتے ہیں، وہ محض رسمی لباس نہیں، یہ اُس مقدس اعتماد کی علامت ہیں جو قوم نے عدلیہ پرکیا۔
آئینی ترمیم میں عدلیہ سےمتعلق اہم نکات
تاریخ گواہ ہے اکثر اوقات یہ لباس خاموشی اور بے عملی کی علامت بن گیا، آنے والی نسلوں نے ان کو مختلف طور پر نہ دیکھاتو ہمارا مستقبل بھی ہمارے ماضی جیسا ہی ہوگا، امید ہے آنے والے دنوں میں عدل کرنے والے سچائی کے ساتھ فیصلے کریں گے، اسی امید کے ساتھ میں آج یہ چُغہ آخری بار اتاررہا ہوں، سپریم کورٹ آف پاکستان کے جج کے عہدے سے اپنا استعفیٰ فوری طورپرپیش کرتا ہوں،اللہ کرے،جوانصاف کریں،وہ سچائی کے ساتھ کریں۔