Home / ایران کےجوہری پروگرام پراہم ملاقات

ایران کےجوہری پروگرام پراہم ملاقات

EU diplomats met with Iran Dy FM in Istanbul

جولائی 25، 2025 | نیوز میکرزویب ڈیسک

یورپی ممالک کے سینئر سفارتکاروں کی استنبول میں ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی سے ملاقات متوقع ، جس کا مقصد ایران کے ایٹمی افزودگی پروگرام پر دوبارہ مذاکرات کا آغاز کرنا ہے۔

دی نیویارک ٹائمزکے مطابق، برطانیہ، فرانس اور جرمنی ایران پر زور دے رہے ہیں کہ وہ امریکا کے ساتھ ایٹمی مذاکرات بحال کرے اور عالمی برادری کا اعتماد بحال کرنے کے لیے عملی اقدامات کرے۔ یورپی خدشات کی بنیاد یہ ہے کہ ایران نے یورینیم کو ہتھیاروں کے درجے تک افزودہ کر لیا ہے، جو تقریباً 10 ایٹمی ہتھیار بنانے کے لیے کافی ہے، اگرچہ ایران دعویٰ کرتا ہے کہ اس کا پروگرام مکمل طور پر پرسویلین مقاصد کے لیے ہے۔

گزشتہ ماہ اسرائیل کےساتھ جنگ کےدوران ایران کی ایٹمی تنصیبات اور دیگر بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا، ایران نے امریکا کے ساتھ جاری محدود سطح کے مذاکرات روک دیے تھے۔

ٹرمپ کیوں خامنہ ای سےناراض؟ اصل وجہ سامنےآگئی

معاہدے کی مدت ختم ہونےکےقریب

2015کے تاریخی ایٹمی معاہدے (JCPOA) کی مدت اکتوبر کے وسط میں ختم ہو رہی ہے، جس کے تحت ایران نے پابندیاں ہٹانے کے بدلے اپنے ایٹمی پروگرام کو محدود کرنے پر آمادگی ظاہر کی تھی۔ یورپی ممالک پابندیوں کی بحالی کی آخری تاریخ میں توسیع پر آمادہ ہیں، کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ اگر ایک بار پابندیاں دوبارہ لگ گئیں تو ان کا سفارتی دباؤ کے طور پر استعمال مؤثر نہیں رہے گا۔

یورپی طاقتوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران نے سنجیدہ مذاکرات کی طرف قدم نہ بڑھایا تو اگست کے اختتام تک وہ اقوام متحدہ کی سخت پابندیوں کی بحالی کا عمل شروع کر دیں گے۔

ایران کا مؤقف اور ممکنہ ردعمل

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے مطابق حالیہ حملوں سے ایران کی ایٹمی تنصیبات کوشدید نقصان پہنچا ہے، اور فی الحال افزودگی کا عمل رُک گیا ہے، لیکن انہوں نے واضح کیا کہ ایران یورینیم افزودگی کے حق سے دستبردار نہیں ہوگا۔

ایران نے واضح کر دیا ہے کہ اگر دوبارہ پابندیاں لگائی گئیں تو وہ جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے (NPT) سے علیحدگی اختیار کر لے گا اور اقوام متحدہ کی ایٹمی ایجنسی (IAEA) سے ہر قسم کا تعاون ختم کر دے گا۔

نائب وزیر خارجہ غریب آبادی، جو استنبول مذاکرات میں شریک ہوں گے، نے اقوام متحدہ میں صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ ایران یورپ یا امریکا کے ساتھ بات چیت کے لیےتیار ہے، لیکن اس کے لیے کچھ شرائط درکار ہوں گی، جن میں ایران پر دوبارہ حملہ نہ کرنےکی ضمانت شامل ہے۔

عالمی پوزیشن اوراختلافات

امریکا اور اسرائیل کا مطالبہ ہے کہ ایران یورینیم افزودگی کا عمل مکمل طور پر ترک کرے، لیکن یورپی ممالک اس حد تک سخت مؤقف نہیں رکھتے، بشرطیکہ افزودگی محدود اور سخت نگرانی میں کی جائے۔

یورپی خارجہ پالیسی ماہر ایلی گیرن مایہ کے مطابق اگر پابندیاں بحال کرنے کی ڈیڈ لائن میں توسیع نہ ہوئی تو اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر دوبارہ اتفاق رائے حاصل کرنا ناممکن ہو سکتا ہے، خاص طور پر جب روس اور چین ویٹو پاور رکھتے ہیں۔ انہوں نے تجویز دی ہے کہ ایک سال کی عبوری توسیع دی جائے تاکہ واشنگٹن کے ساتھ مزید سنجیدہ مذاکرات اور IAEA کو ایران کی ایٹمی صورتحال کا درست اندازہ لگانے کا موقع مل سکے۔

اسی دوران ایران نے اپنے اتحادیوں روس اور چین سے بھی مشاورت کی ہے تاکہ ممکنہ طور پر دوبارہ لگنے والی پابندیوں سے نمٹنے کی حکمت عملی تیار کی جا سکے۔ حالانکہ وہ معاہدے کے فریق ہیں، لیکن اگر یورپ نے "اسنیپ بیک” میکانزم استعمال کیا تو وہ بھی پابندیوں کی واپسی نہیں روک سکیں گے۔

اگر استنبول میں ہونے والی یہ ملاقات کامیاب نہ ہوئی تو مشرق وسطیٰ میں کشیدگی ایک بار پھر خطرناک سطح پرجاسکتی ہے — یہاں تک کہ ممکنہ طور پر ایک اور عسکری تصادم تک۔

یہ بھی چیک کریں

USS Abraham Lincoln deployed in Middle East

امریکی بحری بیڑامشرق وسطیٰ پہنچ گیا

Tuesday, 27 January 2026 | Web Desk آنےوالےدنوں میں امریکااورایران میں کشیدگی بڑھنےکاامکان ۔ امریکی …