July 09, 2025 | Web Desk
امریکامیں نئی سیاسی جماعت بنانےکےاعلان کےبعد ایلون مسک کو نہ صرف سیاسی محاذ پرتنقیدکاسامنا ہےبلکہ پچھلےدنوں اُن کی کمپنی ٹیسلا کی مارکیٹ ویلیو میں تقریباً 76ارب ڈالر کی کمی واقع ہوئی ہے۔
دی گارڈین کے مطابق، صدرٹرمپ سےسیاسی کشمکش کےبعد ٹیسلا کے شیئرز میں **7.5 فیصدکی کمی واقع ہوئی، یہ کمی ایلون مسک کی جانب سے *"امریکہ پارٹی”* کے قیام کا اعلان کرنے کے فوری بعد دیکھنے میں آئی۔
تجزیہ کاروں کےمطابق،سرمایہ کار اس بات پر فکرمند ہیں کہ مسک کی بڑھتی ہوئی سیاسی سرگرمیاں ان کی کمپنیوں، خاص طور پر ٹیسلا، پر منفی اثر ڈال سکتی ہیں اور مستقبل کی ترقی میں رکاوٹ بن سکتی ہیں۔
ایلون مسک کےاس سیاسی قدم پرامریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے شدیدردعمل دیااوراسےاحمقانہ قراردیتے ہوئےسوشل میڈیا پرسخت تنقید کی۔
ٹرمپ نے لکھا: ایلون مسک مکمل طورپرپاگل ہو چکا ہے۔ وہ ایک تباہی بن چکا ہے۔
جواباً، مسک نے اپنی سوشل میڈیا ویب سائٹ ایکس پرلکھا:ہم ایک جماعتی نظام میں جی رہے ہیں، یہ جمہوریت نہیں۔ ‘امریکہ پارٹی’ آپ کی آزادی واپس دلانے آئی ہے۔”
سرمایہ کاروں کی بےچینی یہ ظاہر کرتی ہے کہ مسک کی ترجیحات میں تبدیلی پر انہیں شدید تحفظات ہیں، خاص طور پر اس لیے کہ وہ پہلے ہی ٹیسلا، اسپیس ایکس، نیورالنک اور ایکس جیسے کئی منصوبوں کی نگرانی کر رہے ہیں۔
تجزیہ کارکوڈرہےکہ اگر ایلون مسک نے سیاسی میدان میں مزید پیش قدمی کی تو اس سے نہ صرف سرمایہ کاروں کا اعتماد متزلزل ہوگا بلکہ ٹیسلا کی مارکیٹ پوزیشن بھی متاثر ہو سکتی ہے۔
سیاسی کشمکش خلاتک جاپہنچی
ایلون مسک اور ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان جاری کشیدگی اب خلا کے میدان تک جا پہنچی ہے۔ مسک نے گزشتہ دنوں اسپیس ایکس کے ڈریگن خلائی جہاز کو امریکی سرکاری معاہدوں سے ہٹانے کی دھمکی دے کر ناسا اور خلاء نوردوں کو تشویش میں مبتلا کر دیا۔
ایک وقت میں اتحادی سمجھے جانے والے ٹرمپ اور مسک اب سخت سیاسی مخالف بن چکے ہیں، اور اس اختلاف کی بنیاد ٹرمپ کا نیا معاشی بل ہے، جس میں سوشل سیکیورٹی، اوور ٹائم تنخواہ اور ٹِپ والی اجرتوں پر ٹیکس میں کٹوتی کی گئی ہے۔
پاکستان میں آن لائن کاروبارپرنیاٹیکس نظام لاگو
ایلون مسک نے اس بل کو "شیطانی قانون” قرار دیتے ہوئے ٹرمپ پر لفظی حملے کیے، جس کے جواب میں ٹرمپ نے نہ صرف مسک پر تنقید کی بلکہ ان کے سرکاری معاہدوں پر نظرِ ثانی کی دھمکی بھی دی۔
مسک نے اس کے ردعمل میں اعلان کیا کہ ڈریگن اسپیس کرافٹ کو ریٹائر کر دیا جائے گا — یہ وہی خلائی جہاز ہے جو اس وقت ناسا کے خلا نوردوں کو **انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن ** تک پہنچانے کا اہم ذریعہ ہے۔
یہ بیان خلائی تحقیق کے حلقوں میں ہلچل کا باعث بن گیا۔
کیا ناسا اب انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن کو طے شدہ وقت سے پہلے بند کرے گا؟
کیا وہ ہنگامی متبادل کے طور پر بوئنگ کے تجربہ طلب اسٹار لائنر پر انحصار کرے گا؟
یہ اور کئی سوالات اس تنازع کے بعد اٹھنے لگے۔
یاد رہے، ایلون مسک کو صدر ٹرمپ نےڈیپارٹمنٹ آف گورنمنٹ ایفیشنسی کا سربراہ مقرر کیا تھا، لیکن کچھ ہی دنوں بعدٹرمپ کے بگ بیوٹی فل بل پراختلافات کےباعث مسک نےامریکی صدرکےمشیرکاعہدہ چھوڑدیا، جس کےبعددونوں ایک دوسرےکےبدترین سیاسی مخالف بن گئے۔اسی وجہ سےایلون مسک نےنئی سیاسی جماعت بنائی ہےتاکہ ٹرمپ کوٹف ٹائم دیاجاسکے۔
یادرہےکہ امریکی صدریہاں تک کہہ چکےہیں کہ ایلون مسک کوملک بدرکرنےبھی غورکیاجاسکتاہے۔