ویب ڈیسک ۔۔ بینکوں نےاضافی ٹیکس سےبچنےکیلئے حکومتی مقرر کردہ حد کو پورا کرنےکی خاطر31 دسمبر کی آخری تاریخ سے پہلے 50 فیصد ایڈوانس ٹو ڈپازٹ ریشو (اےڈی آر) کے قریب پہنچنے میں کامیابی حاصل کرلی ہے۔
بینک بڑے پیمانے پر ڈپازٹس کو کم کرنے میں ناکام رہے لیکن صرف چار مہینوں کےدوران ایڈوانسزمیں 27فیصداضافہ کرنے میں انہیں کامیابی ملی۔
مالی سال 2025 کے بجٹ میں یہ ٹیکس عائد کیے جانے کے وقت بینکوں کو شدید مشکلات کاسامناکرنا پڑا، کیونکہ اس وقت پالیسی ریٹ 22 فیصد تھا اور اوسط اےڈی آرصرف 38 فیصد سےتھوڑازیادہ تھی۔
سٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کی رپورٹ کےمطابق نجی شعبے کو بینکوں کی جانب سے دیے گئے قرضے پچھلے تین سالوں کی اوسط کے مقابلے میں ریکارڈ سطح پر پہنچ گئے ہیں۔ مرکزی بینک کے اعداد و شمار کے مطابق، یکم جولائی سے 6 دسمبر تک نجی شعبے کو بینکوں کی جانب سے دیے گئے قرضے 1.35ٹریلین روپے تک پہنچ گئے۔
اسی دوران، بینکوں نے اپنی لیکویڈیٹی کا 1.33 ٹریلین روپے نان بینک فنانشل انسٹیٹیوشنزمیں لگا دیا۔ اس بڑے پیمانے پر قرض دینے سے بینکوں کو کیلنڈر سال 2024 کے اختتام سے قبل اپنے اےڈی آر کو بہتر بنانے میں مدد ملی۔
عارف حبیب لمیٹڈ نے ہفتہ کو جاری کردہ رپورٹ میں پچھلے پانچ ہفتوں کے دوران اےڈی آر سے متعلق پیش رفت کی وضاحت کی۔
رپورٹ کےمطابق،بینکاری شعبےکااےڈی آر6دسمبرتک 49.7 فیصد تک بہترہوگیا،جونومبرمیں 47.8فیصد تھا۔
بینکرزکا خیال ہے کہ حکومت اےڈی آرٹیکس کے ذریعے اضافی پیسہ جمع کرنے کا ارادہ نہیں رکھتی۔ تاہم، میڈیا رپورٹس کے مطابق، حکومت سالانہ اوسط اےڈی آرپربینکوں پرٹیکس لگانےکامنصوبہ بنارہی ہے۔ بینکرز نے کہا کہ یہ اقدام خاص طور پر ان بینکوں میں شدید مزاحمت کا سبب بنے گا جن کی ملکیت غیر ملکی سرمایہ کاروں کے پاس ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ اےڈی آراگست میں 38.4 فیصد تک کم ہونے کے بعد 11.4 فیصد بڑھ کر 49.7 فیصد تک پہنچ گیا۔
رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ یکم اگست سے 6 دسمبر تک بینکوں کے ڈپازٹس میں 1.6 فیصد کمی آئی جبکہ ایڈوانسز میں 27.6 فیصد اضافہ ہوا۔
بینک صارفین کی شکایات کافوری ازالہ
معیشت بحالی کی طرف گامزن ہے: سٹیٹ بینک گورنر
بینک حکومت کی جانب سے قرضے کم کرنے کے فیصلے کے نتیجے میں پیدا ہونے والی غیر متوقع طور پر زیادہ لیکویڈیٹی کو سنبھالنے کے لیے پریشان تھے، خاص طور پر اس وقت جب حکومت نے مالی سال 2024میں سٹیٹ بینک سے 2.7 ٹریلین روپے کا منافع حاصل کیا۔
حکومت نے قرض لینا شروع کیا لیکن بینکوں کی توقعات سے کم اور میچور ہونے والے ملکی بانڈز کی رقم سے بھی کم۔
سٹیٹ بینک کے اعداد و شمار کے مطابق، یکم جولائی سے 6 دسمبر تک حکومت کی خالص قرض ادائیگی 1.7ٹریلین روپے تھی، جو پچھلے سال کے اسی عرصے میں 3.584 ٹریلین روپے کی خالص قرض لینے کے برعکس تھی۔
یہ تبدیلی بینکوں کے لیے ایک چیلنجنگ صورتحال بن گئی، کیونکہ زیادہ لیکویڈیٹی نے انہیں ٹیکس ادا کرنے کے خطرے سے دوچار کر دیا اگر وہ 50 فیصد اےڈی آر کی شرط پوری کرنے میں ناکام رہے۔
اضافی لیکویڈیٹی کو منظم کرنے اور اےڈی آر کا ہدف پورا کرنے کے لیے، بینکوں نے کراچی انٹربینک آفرڈ ریٹس سے کم شرح پر قرض دینا شروع کیا، جس سے ان کی منافع بخش صلاحیت متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
2023میں، بینکوں کے پرافٹ دوگنے ہو گئے تھے، کیونکہ انہوں نے بغیر خطرے کے حکومتی سیکیورٹیز میں غیر معمولی شرحوں پر سرمایہ کاری کی، جو 22 فیصد پالیسی ریٹ سے زیادہ تھیں۔
کیبور تقریباً 12 فیصد اور پالیسی ریٹ 13 فیصد کے قریب ہیں، جو یہ ظاہر کرتے ہیں کہ اگر مہنگائی کم رہی تو مانیٹری پالیسی مزید نرم ہو سکتی ہے۔