ویب ڈیسک: وزیراعظم کے مشیر، رانا ثنا اللہ نے پرویز خٹک کی کابینہ میں شمولیت پر بڑا بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں لانے کا فیصلہ صرف وزیراعظم کا نہیں بلکہ اس کے پیچھے "کوئی اور سوچ بھی ہو سکتی ہے۔”
رانا ثنا اللہ نے دعویٰ کیا کہ خیبرپختونخوا حکومت اسلام آباد کی جانب "چڑھائی کرنے کے لیے بھرپور کوشش کر رہی ہے،” اور سننے میں آ رہا ہے کہ عید کے بعد اسلام آباد کی طرف مارچ کا منصوبہ بنایا جا رہا ہے۔
پیپلز پارٹی کابینہ میں شامل نہیں ہوگی
رانا ثنا اللہ نے مزید وضاحت کی کہ یہ طے ہو چکا ہے کہ پیپلز پارٹی وفاقی کابینہ کا حصہ نہیں بنے گی۔ تاہم، انہوں نے اعتراف کیا کہ "پیپلز پارٹی چاہے انکار کرتی رہے، لیکن اتحادی حکومت کے ہر بڑے فیصلے میں اس کی رائے ضرور شامل ہوتی ہے۔”
سیاسی معاملات سیاستدانوں کو حل کرنے چاہئیں
مسلم لیگ (ن) کی چیف آرگنائزر مریم نواز سے متعلق ایک سوال کے جواب میں، رانا ثنا اللہ نے کہا کہ کسی کو ایوان میں پیش کرنا ان کی ذمہ داری نہیں، بلکہ یہ کام سیاسی رہنماؤں کو کرنا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ "اگر کسی کا پروڈکشن آرڈر جاری ہوتا ہے، تو اسے اسمبلی میں پیش کیا جانا چاہیے۔”
عید کے بعد بڑا سیاسی طوفان؟
رانا ثنا اللہ کے اس بیان نے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے کہ آیا خیبرپختونخوا حکومت واقعی عید کے بعد اسلام آباد کی طرف کسی بڑے اقدام کی تیاری کر رہی ہے؟ اگر ایسا ہے تو وفاقی حکومت اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے کیا حکمت عملی اپنائے گی؟ اس سوال کا جواب آنے والے دنوں میں واضح ہوگا۔