Home / انٹرنیٹ سپیڈبڑھنےوالی ہے: شزافاطمہ

انٹرنیٹ سپیڈبڑھنےوالی ہے: شزافاطمہ

Internet speed in Pakistan

مانیٹرنگ ڈیسک ۔۔ وفاقی حکومت نےانٹرنیٹ سپیڈمیں بہتری کی نویدسنای ۔ وزیرمملکت برائےانٹرنیٹ شزافاطمہ خواجہ نےسینیٹ میں اظہارخیال کرتےہوئےکہادونئی سب میرین کیبلزآرہی ہیں ، انٹرنیٹ میں بہتری آئےگی ۔ سپیکٹرم بڑھنےسےانٹرنیٹ سپیڈبڑھےگی ۔

انہوں نےکہا انٹرنیٹ سپیکٹرم پردباوکی وجہ سےمسئلہ پیداہوا۔ پانچ سومیگاہرٹزسپیکٹرم کیلئےپی ٹی اےنےامریکہ سےرابطہ کیاہے،ان کی رپورٹ کاانتظارہے۔ ن لیگ ہی کی سینیٹرآنوشہ رحمان نےکہاہم نےسپیکٹرم دےکراس پرقدغن لگانی ہےتواس کاکوئی فائدہ نہیں ۔

انٹرنیٹ اسپیکٹرم
انٹرنیٹ اسپیکٹرم سے مراد وہ برقی مقناطیسی لہریں (electromagnetic frequencies) ہیں جو انٹرنیٹ کے ذریعے ڈیٹا کو وائرلیس طور پر منتقل کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہیں۔ یہ برقی مقناطیسی اسپیکٹرم کا ایک حصہ ہے، جس میں ریڈیو ویوز، مائیکرو ویوز، انفراریڈ، اور دیگر شامل ہیں۔

انٹرنیٹ اسپیکٹرم کے اہم پہلو:

  1. فریکوئنسی بینڈز:
  • انٹرنیٹ عام طور پر ریڈیو فریکوئنسی اسپیکٹرم کے مخصوص حصوں پر انحصار کرتا ہے۔
    • Wi-Fi کے لیے 2.4 GHz اور 5 GHz بینڈز استعمال ہوتے ہیں۔
    • 5G موبائل نیٹ ورکس کے لیے Sub-6 GHz اور ملی میٹر ویو (mmWave) بینڈز استعمال ہوتے ہیں۔
  • ان فریکوئنسیز کو حکومتی ادارے جیسے پاکستان میں PTA یا امریکہ میں FCC کنٹرول کرتے ہیں۔
  1. وائرلیس ٹیکنالوجیز:
    انٹرنیٹ اسپیکٹرم مختلف وائرلیس ٹیکنالوجیز کے لیے اہم ہے، جیسے:
  • وائی فائی
  • سیلولر نیٹ ورکس (4G، 5G)
  • بلوٹوتھ
  • سیٹلائٹ انٹرنیٹ
  1. اسپیکٹرم کی تقسیم:
    اسپیکٹرم کی مختلف فریکوئنسیز مخصوص خصوصیات رکھتی ہیں:
  • کم فریکوئنسیز (1 GHz سے نیچے): یہ زیادہ دور تک جاتی ہیں اور عمارتوں کے اندر بہتر طور پر کام کرتی ہیں، لیکن ان کی رفتار نسبتاً کم ہوتی ہے۔
  • زیادہ فریکوئنسیز (24 GHz سے اوپر، mmWave): یہ زیادہ تیز رفتار اور زیادہ ڈیٹا کی گنجائش فراہم کرتی ہیں، لیکن ان کی رینج کم ہوتی ہے اور دیواروں جیسی رکاوٹوں سے متاثر ہوتی ہیں۔
  1. انٹرنیٹ کنیکٹیویٹی میں کردار:
    اسپیکٹرم کے ذریعے ڈیٹا وائرلیس طور پر ایک ڈیوائس سے دوسری ڈیوائس تک پہنچتا ہے، جیسے موبائل فون سے موبائل ٹاور یا لیپ ٹاپ سے وائی فائی راؤٹر تک۔
    یہ اسٹریمنگ، ویڈیو کانفرنسنگ، آن لائن گیمز، اور IoT (انٹرنیٹ آف تھنگز) ڈیوائسز کو سپورٹ کرتا ہے۔
  2. چیلنجز:
  • اسپیکٹرم کی کمی: انٹرنیٹ کی بڑھتی ہوئی طلب کے ساتھ اسپیکٹرم کا استعمال زیادہ ہوجاتا ہے، جس سے رفتار کم یا کنکشن میں مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔
  • مداخلت: ایک ہی اسپیکٹرم پر متعدد ڈیوائسز کے استعمال سے مداخلت پیدا ہوسکتی ہے، جو کارکردگی کو متاثر کرتی ہے۔
  1. مستقبل میں اسپیکٹرم کا استعمال:
    جیسے جیسے ٹیکنالوجی ترقی کررہی ہے، ڈائنامک اسپیکٹرم شیئرنگ اور اسپیکٹرم نیلامی جیسے نئے طریقے اپنائے جارہے ہیں تاکہ وائرلیس فریکوئنسیز کے استعمال کو بہتر بنایا جاسکے۔

خلاصہ:
انٹرنیٹ اسپیکٹرم وائرلیس کمیونیکیشن کی بنیاد ہے، جو دنیا بھر میں ڈیوائسز اور نیٹ ورکس کے لیے تیز رفتار ڈیٹا ٹرانسفر کو ممکن بناتا ہے۔

یہ بھی چیک کریں

DG ISPR Press Briefing on Pak Afghan border clash

آپریشن ضرب للحق، 297 افغان کارندےہلاک، 400 سےزائدزخمی

Saturday, 28 February 2026 | Web Desk آپریشن غضب للحق میں 297 طالبان رجیم کےاہلکاراورخوارج …