یہ وہ الفاظ ہیں جوایجنٹوں کےذریعےاپنےبچوں کوبیرون ملک بھیجنےوالی ہرماں سنناچاہتی ہے ، بہت سی مائیں ان الفاظ کوترستےترستےقبرمیں اترجاتی ہیں لیکن ایسی کوئی کال نہیں آتی،کیونکہ کال کرنےوالاتوکب کاسمندرمیں ڈوب چکا ۔
میں اورآپ لاکھ چاہیں توبھی اس بےبس اوردکھیاری ماں کےکرب کااندازہ نہیں لگاسکتے،جس نےدل پرپتھرکر اپنےلخت جگرکوایجنٹ کےحوالےکیا ۔
دوستو!اچھےمستقبل کاخواب اوراس کےحصول کی کوشش کوئی جرم نہیں ۔۔لیکن اچھےخواب کیلئےبرےراستےکاانتخاب یقیناًجرم ہے ۔ اس جرم کی سزاکبھی لاکھوں روپےکےضیاع اورذلت وخواری کی صورت ملتی ہے،توکبھی کبھاراس کی قیمت جان دیکرچکاناپڑتی ہے ۔۔
غیرقانونی طریقےسےیورپ اورامریکہ جانےکی خواہش بھی ایساہی جرم ہےکہ جسےکرنےوالااپنےبھیانک انجام سےقطعی لاعلم ہوتاہے ۔ انسانی سمگلرزکی چکنی چپڑی باتیں سن کرلگتاہےکہ جیسےگھرسےقدم باہرنکالتےہی ہم امریکہ اوریورپ پہنچ جائیں گے ، جبکہ حقیقت میں ایساہونےکےچانسزسومیں سےشایدایک فیصدیااس سےبھی کم ہوتےہیں ۔۔
یادرکھیں،انسانی سمگلرزکےہتھےچڑھ جاناایسےسفرپرروانہ ہوناہےجس کی کوئی منزل نہیں ۔۔
حال ہی میں یونانی جزیرےکےقریب ہونےوالےکشتی حادثےمیں درجنوں پاکستانیوں کی موت کی تصدیق ہوچکی ہےاورشایداتنےہی لاپتہ ہیں ۔ اس سےپہلےجون دوہزارتئیس میں بھی ایساہی ایک حادثہ ہواجس میں دوسوسےزائدپاکستانی سمندرمیں ڈوب جان گنوابیٹھے ۔
ہمارےہاں غیرقانونی طورپربیرون ملک جانےوالےنوجوانوں کی اکثریت کاتعلق منڈی بہاوالدین، گجرات اور سیالکوٹ سےہوتاہے۔ کیاوجہ ہےکہ صرف انہی علاقوں کےنوجوانوں کوامریکہ اوریورپ جانےکاجنون ہےاوروہ بھی غیرقانونی طریقےسے؟
اس کی ایک وجہ توظاہرہےاچھامستقبل ہےلیکن اس کےعلاوہ بھی ایک وجہ ہے۔
نوےکی دہائی میں امریکہ اوریورپ جانےکی ایک ویوچلی، اس دوران منڈی بہاوالدین ، گجرات ، پھالیہ اورسیالکوٹ سےنوجوانوں کی بہت بڑی تعدادایجنٹوں کوپیسےدےکرباہرچلی گئی ، ان دنوں امیگریشن قوانین نرم تھے تھےاورغیرقانونی طورپربیرون ملک جانازیادہ مشکل نہیں تھا۔ایک باروہاں پہنچنےپرتھوڑی بہت قانونی کارروائی کےبعدآپ کورہنےکی اجازت مل جاتی تھی ۔ ان دنوں ڈنکی لگانےکی بجائےزیادہ ترنوجوانوں کوبائی ائیرباہربھجوایاجاتاتھا ۔ لہٰذانوجوانوں کوپنجاب سےبلوچستان ، وہاں سےایران اوروہاں سےترکی اورپھرسمندرکےراستےیونان جانےکاکشٹ کاٹنانہیں پڑتاتھا۔ یہی وجہ ہےکہ امریکہ اوریورپ جانےوالےزیادہ ترنوجوان باآسانی اپنی منزل پرپہنچ گئے ۔ آج یہ لوگ وہاں کےباعزت شہری ہیں اوران کی ایک نسل بھی وہاں پیداہوکرجوان ہوچکی ہے۔ ان لوگوں نےپاکستان میں کروڑوں کی جائیدادیں بنائیں ۔اگرسروےکریں توآپ کومنڈی بہاوالدین ،پھالیہ اورگجرات کےہردوسرےتیسرےگھرکاکوئی فردامریکہ یایورپ میں ملےگا ۔
یہ بہت بڑی وجہ ہےکہ آج بھی ان علاقوں کےنوجوان اپنےکسی بڑےیاجاننےوالےکی طرح باہرجاکراپنی زندگی بناناچاہتےہیں ۔۔ لیکن یہ لوگ ایک بات بھول جاتےہیں ۔۔ کہ جس دورمیں وہ لوگ بیرون ملک گئےوہ نائن الیون سےپہلےکادورتھا ۔۔ نائن الیون کےبعددنیایکسرتبدیل ہوگئی اورآج قانونی طریقےسےبھی باہرجاناجوئےشیرلانےکےبرابرہے۔
آپ یوں سمجھ لیں آج جوقوانین دوسروں کیلئےسخت ہیں ، وہ پاکستانیوں کیلئےسخت ترین ہیں ۔ اس کی ایک وجہ توہماراغیرقانونی طریقےسےباہرجاناہےاوردوسراوہاں پہنچ کردونمبریاں کرنا ۔ زیادہ دورنہ جائیں،متحدہ عرب امارات نےڈیڑھ دوسال سےپاکستان کےویزوں پرپابندی لگارکھی ہے۔یواےای حکام کی جانب پاکستانی سفیرکوجورپورٹ دی گئی اس کےمطابق ان کےملک میں ہونےوالی غیرقانونی سرگرمیوں میں پاکستانی سب سےآگےہیں ۔ ایسی باتیں کرتےہوئےشرم توآتی ہےلیکن کیاکریں ۔۔ بات توسچ ہےمگربات ہےرسوائی کی ۔
پاکستانیوں کوسمجھناہوگاکہ یہ نوےکی دہائی نہیں ۔ آج اگرسونوجوان ڈنکی لگاکریورپ جانےکی کوشش کریں گےتوکوئی ایک آدھاخوش قسمت ہی منزل پرپہنچےگا،باقی یاتوذلت سمیٹ کرواپس آجائیں گےیاپھرہمیشہ کیلئےسمندرکی گہرائیوں میں گم ہوجائیں گے، اوراس سےانسانی سمگلرزکوگھنٹہ فرق نہیں پڑتا ۔ یہ وحشی درندےسینکڑوں بےگناہ اورسادہ لوح نوجوانوں کوکھانےکےبعدبھی بھوکےاورپیاسےہیں ۔
ان نوجوانوں نےجوخواب دیکھےوہ برےنہیں تھے،بس ان کاطریقہ غلط تھا۔ ان کےخوابوں کوتعبیرملنی چاہیےتھی ، لیکن بدقسمتی سےکچھ خوابوں کاانجام اتنابھیانک اوردردناک ہوتاہےکہ ان کی لاش پرتعبیربھی بین ڈالتی ہے ۔
آپ بہت قیمتی ہیں ، اپنےوالدین کیلئے، اس ملک کیلئے، خودکواس طرح ہلاکت میں نہ ڈالیں ۔۔ آخرمیں ان ماوں کیلئےچندالفاظ جنہوں نےاپنےبچےہمیشہ کیلئےکھودئیے ۔۔
میں ہن نئیں مڑنا ۔۔۔
ماں توں سوں جا ۔۔
توں جیڑی روٹی مینوں دیتی سی میں او کھالئی ۔۔
میں ٹھیک آں توں سوں جا
توں مینوں رب دےحوالےکیتاسی، ویکھ میں رب کول پونچ گیاں
توں پریشان نہ ہو ۔۔ سوں جا ۔۔