Home / سپریم کورٹ کافیصلہ ، حمزہ شہبازوزیراعلیٰ رہیں گے؟؟

سپریم کورٹ کافیصلہ ، حمزہ شہبازوزیراعلیٰ رہیں گے؟؟

BZU LLB students

ویب ڈیسک ۔۔ آئین کےآرٹیکل 63اےکی تشریح کیلئےبھیجےگئےصدارتی ریفرنس پرسپریم کورٹ کافیصلہ آگیاہے۔ فیصلےکی روسےمنحرف ارکان کاووٹ شمارنہیں ہوگا۔ اس فیصلےکی روسےپنجاب میں حمزہ شہبازشریف کی حکومت اصولی طورپرختم ہوگئی ہےکیونکہ انہیں ڈالےگئےتحریک انصاف کےمنحرف ارکان کےووٹ غیرموثرہوجائیں گے۔

ماہرقانون وآئین سلمان اکرم راجہ کےمطابق سپریم کورٹ کےفیصلےکی روشنی میں پنجاب میں وزیراعلیٰ کاالیکشن دوبارہ ہوگااوراس الیکشن کےدوراونڈہوسکتےہیں۔ اگرپہلےراونڈمیں الیکشن میں وزیراعلیٰ کاکوئی فیصلہ نہ ہواتودوبارہ الیکشن ہوگااوراس میں جوبھی امیدوارزیادہ ووٹ لےگا،وہ وزیراعلیٰ بن جائےگا۔

جہاں تک قومی اسمبلی اوروفاقی حکومت کامعاملہ ہےتووہاں سپریم کورٹ کےفیصلےکازیادہ اثرنہیں ہوگا۔ زیادہ سےزیادہ ق لیگ کےدوارکان قومی اسمبلی چودھری سالک حسین اورطارق بشیرچیمہ وفاقی حکومت سےالگ بھی ہوتےہیں توبھی شہبازشریف کےپاس 172ووٹ رہیں گےاوران کی حکومت قائم رہےگی۔ یوں بقول شیخ رشیداگرصدرمملکت وزیراعظم شہبازشریف سےاعتمادکاووٹ لینےکیلئےکہتےہیں ہیں توبھی شہبازشریف کی حکومت کوخطرہ نہیں ۔

سینئرصحافی اوراینکرپرسن حامدمیرکاکہناہےکہ اس فیصلےکاپنجاب میں تحریک انصاف کوفائدہ ہوتانظرآرہاہے۔

سپریم کورٹ کےسینئررپورٹرقیوم صدیقی کےمطابق اس فیصلےمیں ابہام ہےاوریہ نہیں سمجھ آرہاکہ فیصلہ مستقبل میں اپلائی ہوگایاماضی سےاس کااطلاق ہوگا۔ قیوم صدیقی کےمطابق یہ سمجھ نہیں آرہاکہ عدالت نےفیصلہ دیاہےیااپنی رائےکااظہارکیاہے۔

فیصلہ سناتے ہوئے چیف جسٹس عمر عطا بندیال کا کہنا تھا کہ تین دو کی اکثریت سے فیصلہ سنایا جاتا ہے، جسٹس جمال مندوخیل اور جسٹس مظہر عالم میاں خیل نے اختلافی نوٹ لکھے جب کہ جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس اعجازالاحسن اور جسٹس منیب اختر نے اکثریتی رائے دی۔

اکثریتی فیصلےکےمطابق منحرف ارکان کوتاحیات نااہل نہیں کیاگیا،واضح رہےکہ صدارتی ریفرنس میں منحرف ارکان کی تاحیات نااہلی کےحوالےسےبھی سوال پوچھاگیاتھا۔

سپریم کورٹ کےفیصلےکےبعداب الیکشن کمیشن کامنحرف ارکان کےبارےمیں فیصلہ کل سنائےجانےکاامکان ہے۔

حمزہ شہبازوزیراعلیٰ رہیں گے؟

اگراب الیکشن کمیشن کےفیصلہ کےبعد پنجاب اسمبلی سےپی ٹی آئی کے25 ارکان ڈی سیٹ ہوگئےتو اس کےبعد پی ٹی آئی کی تعداد 158ہو جائےگی اور ق لیگ کے10ارکان ملاکرتعداد168ہو جائے گی جبکہ ن لیگ کے165،پی پی پی 7،راہ حق پارٹی 1اور4 آزاد ملا کر یہ تعداد 176 ہو جائے گی۔

اس لیے اگلا وزیر اعلی بھی حمزہ شہباز منتخب ہو جائے گا،کیونکہ اگر ایک دفعہ ووٹنگ پر کوئی امیدوار186 ووٹ حاصل نہ کر سکے تو دوسری بار ووٹنگ پر جس امیدوار کے زیادہ ووٹ ہو نگے وہ وزیراعلی منتخب ہو جائے گا۔

یہ بھی چیک کریں

Imran Khan Long March

عمران خان کاحکومت کوبڑاسرپرائز

مانیٹرنگ ڈیسک ۔۔ چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نےتمام اسمبلیوں سےمستعفی ہونےکااعلان کردیا۔ 26نومبرکوراولپنڈی کےلانگ …