Home / اگرہم نمازکی حقیقت جان لیں تو ۔۔

اگرہم نمازکی حقیقت جان لیں تو ۔۔

Namaz

آپ نےوہ شعرتوسناہوگا کہ : کافرہےتوشمشیرپہ کرتاہےبھروسہ مومن ہےتوبےتیغ بھی لڑتاہےسپاہیبہت غورکیاکہ شاعرنےکیاسوچ کرایساکہاجبکہ آج کےدورمیں اسلحےکی اہمیت اورضرورت پہلےسےکئی گنابڑھ چکی ہے ۔ ہتھیاروں کےبغیرلڑنےکاسوچابھی نہیں جاسکتا ۔ پھرایک خیال میرےذہن میں آیاکہ دشمن مومن سےاس کاہتھیارچھین سکتاہے،اس کاایمان نہیں اورایمان سےبڑاہتھیارایک مومن مسلمان کےپاس ہونہیں سکتا ۔ وہ ایمان جس کےساتھ اللہ کی راہ میں قربان ہوناایک مومن اپنےلئےسب سےبڑااعزازسمجھتاہے۔ ہم اکثراپنی دعاوں میں ایمان کی مضبوطی اورسلامتی کی دعامانگتےہیں ۔ سوچنےکی بات ہےکہ ایمان کی مضبوطی اورسلامتی آخرحاصل کیسےہوتی ہے؟ میری ناقص رائےمیں ایمان کی مضبوطی کابہترین ذریعہ نمازہےاوراس بات کوتقویت مندرجہ ذیل احادیث سےملتی ہے:رسول اکرم ﷺ کی مشہورومعروف احادیث ہیں :نمازمومن کی معراج ہےنمازدین کاستون ہےنمازمیری آنکھوں کی ٹھنڈک ہےنمازچاریاپانچ منٹ پر مشتمل ایک انتہائی مختصرعبادت ہےلیکن چھوٹی سی یہ عبادت اپنےاندرخوشگوارحیرتوں کی ایک دنیاسموئےہوئےہے،وہ دنیاجس کےاسرارورموزکودریافت کرناہرمسلمان پرفرض ہے ۔ نمازمومن کی معراج ہے: اس حدیث سےہم یہ مرادلےسکتےہیں کہ چونکہ رسول کریم ﷺ کوسفرمعراج میں نمازکاتحفہ دیاگیا،اس لئےنمازکومومن کی معراج قراردیاگیا۔ اس حدیث مبارکہ سےہم یہ بات بھی اخذکرسکتےہیں کہ جس طرح سفرمعراج میں آنحضورﷺ اللہ تعالیٰ کےبہت قریب چلےگئےتھے،اسی طرح ایک مومن جب نمازقائم کرتاہےتودراصل وہ باری تعالیٰ کےانتہائی قریب پہنچ جاتاہے۔ سبحان اللہ ۔ نمازدین کاستون ہے : یہ بھی بہت زبردست حدیث ہےجوصاف صاف لفظوں میں ہمیں بتارہی ہےکہ نمازنہیں توہمارےدین کی عمارت دھڑام سےنیچےآگرےگی ، دوسرےلفظوں میں یہ بھی کہہ سکتےہیں کہ دین کی عمارت نمازکےبغیربن ہی نہیں سکتا ۔ نمازہےتودین ہے۔ نمازدین کابنیادی جزوہے،اسےقائم کرنےکےبعدہی دیگرلوازمات کی باری آئےگی ۔ روزحشربھی سب سےپہلےسوال نمازکےبارےمیں ہی ہوگا ۔ اس سےنمازکی اہمیت کابخوبی اندازہ لگایاجاسکتاہے۔اسی طرح یہ حدیث کہ نمازمیری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے ۔ ویسے توایک ایک حدیث اپنےاندرعلم وحکمت کےخزانےسموئےہوئےہے،لیکن میری ناقص عقل کےمطابق آنکھوں کی ٹھنڈک سےمرادہےجسم اور روح کی تازگی ۔ اب جس انسان کا جسم ہروقت پاک صاف اورروح تروتازہ رہےگی سوچیں اس کےخیالات کس قدرپاکیزہ ہونگے۔ خود اندازہ لگالیجئےبلکہ تجربہ کرکےدیکھ لیجئے ۔سرور انبیاء حبیب کبریا ﷺ ایک مرتبہ پت جھڑ کے موسم میں باہر تشریف لے گئے اور آپ ﷺ نے ایک درخت کی دو ٹہنیوں کو پکڑا اور انہیں جنبش دی، جس سے پتے جھڑنے لگے آپ ﷺنے فرمایا اے ابو ذر! ابو ذر نے عرض کی یا رسول اﷲ ﷺ میں حاضر ہوں، آپ نے فرمایا دیکھو جب کوئی مسلمان نماز پڑھتا ہے اور اس کے ذریعہ اﷲ کی خوشنودی چاہتا ہے تو اس کے گناہ اسی طرح جھڑ جاتے ہیں جس طرح اس درخت کے پتے جھڑ رہے ہیں ۔ (امام احمد)حضرت ابو ہریرہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی مکرم رسول معظم ﷺ نے ارشاد فرمایا بتاؤ تو کسی کے دروازے پر نہر ہو وہ اس میں ہر روز پانچ بار غسل کرے، کیا اس کے بدن پر میل رہ جائیگا ؟ عرض کیا نہیں! فرمایا یہی مثال پانچوں نمازوں کی ہے کہ ﷲ تعالیٰ ان کے سبب خطاؤں کو مٹا دیتا ہے۔ (بخاری شریف)حضرت عبد اﷲ ابن مسعود فرماتے ہیں کہ میں نے رحمت عالم ﷺ سے دریافت کیا یارسول اﷲ ﷺ اﷲ تعالیٰ کو بندے کا کون سا عمل سب سے زیادہ پسند ہے ، فرمایا وقت پر نماز پڑھنا (بخاری شریف) ویسےتونمازکی اہمیت اوراس کےفوائدکےحوالےسےبےشماراحادیث ، قرآنی آیات اورواقعات موجودہیں،ان صفحات پراگرسب کاذکرکیاجائےتوبات طول پکڑجائےگی اورشایدہم اپنےاصل موضوع سےبھٹک بھی جائیں ۔ اس لئےانتہائی مختصراورسادہ ترین الفاظ میں بس یہی کہوں گاکہ نمازوہ خوبصورت عبادت ہےجوہماری دنیااورآخرت دونوں سنواردیتی ہے۔ دوستو، کہنےکواوربھی بہت کچھ کہہ سکتاہوں لیکن آپ کی آسانی کیلئےسوباتوں کی ایک بات : اللہ تعالیٰ کاقرب حاصل کرناچاہتےہیں؟نمازبہترین، آسان ترین اورمختصرترین راستہ ہے ۔ آزمائش شرط ہے۔ علامہ اقبال نےیوں ہی تونہیں کہہ دیاتھا : وہ ایک سجدہ جسےتوگراں سمجھتاہے ہزارسجدوں سےدیتاہےآدمی کونجات

یہ بھی چیک کریں

The Holy Quran; Sura-e-Haj

بخشش اورعزت کی روزی کاوعدہ

اللہ پاک قرآن پاک کی سورہ حج کی آیت نمبر49 اور50 میں فرماتےہیں : کہہ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے