Tuesday, 06 January 2025 | Web Desk
نیویارک کی فیڈرل کورٹ نےپیرکےروزوینزویلا کے صدر نکولس مادوروپردہشت گردی اورنارکوٹیررازم کےالزامات کےتحت فردجرم عائدکردی ۔ مادورو نے امریکی عدالت میں صحت جرم سےانکارکرتےہوئےکہاکہ میں ایک اچھا انسان ہوں، مجھے اغواکرکےیہاں لایاگیا ہے۔
مادورو اور ان کی اہلیہ کو نیویارک کےحراستی مرکزبروکلن سےبذریعہ ہیلی کاپٹر مین ہیٹن کی وفاقی عدالت لایا گیا،جہاں سے انہیں ایک بکتر بند گاڑی میں عدالت منتقل کیا گیا۔
میڈیاکےذریعےسامنےآنی والی تصاویراورویڈیوزکےمطابق،مادورو کو قیدیوں کا یونیفارم پہنائےاورہتھکڑیوں میں جکڑکرعدالت میں پیش کیا گیا۔ عدالتی کارروائی کو ہسپانوی زبان میں سمجھنے کے لیے انہوں نے ہیڈفون بھی پہن رکھے تھے۔
امریکی عدالت کےجج نےمادورو سےاپنی شناخت بتانےکوکہا تو انہوں نے بتایا کہ وہ وینزویلا کے صدر ہیں۔
جج نےالزامات کی فہرست پڑھ کرسنائے۔ مادورو نےتمام الزامات کورد کرتے ہوئےکہاکہ وہ بےگناہ ہیں اوراب بھی اپنے ملک کےصدرہیں۔ یہاں جن باتوں کاذکرکیاگیاہےان میں سے کسی کا بھی میں قصوروارنہیں ہوں،مجھےاغواکیاگیاہے۔
مادورو کی اہلیہ نے بھی الزامات کوردکرتےہوئےاپنی بے گناہی پر زوردیا۔ جج نے مقدمے میں لمبی تاریخ دیتے ہوئےمادورو اوران کی اہلیہ کو 17 مارچ کو دوبارہ عدالت میں پیش کرنےکا حکم دے دیا۔
خیال رہے کہ وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو اتوار کے روز امریکا لانے کے بعد نیویارک کی ایک جیل منتقل کردیا گیا تھا، نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو ہفتے کےروز وینزویلا میں امریکی فوجی آپریشن کےدوران حراست میں لیاگیاتھا۔