ویب ڈیسک ۔۔ بالی وڈاداکارسیف علی خان کوچاقوحملےمیں زخمی ہونےکے بعد ہسپتال پہنچانےوالے رکشہ ڈرائیورکونقدانعام دیا گیا۔
16جنوری کی رات تین بجے کے قریب سیف علی خان کے ممبئی کے باندرا میں واقع گھر میں ڈکیتی کی کوشش کی گئی، جسے اداکار نے مزاحمت کر کے ناکام بنا دیا۔ اس دوران سیف علی خان پر چاقو سے حملہ کیا گیا،نتیجے میں انہیں چھ زخم آئے، جن میں سے دو گہرے تھے اور ایک زخم ریڑھ کی ہڈی کے قریب تھا۔
زخمی ہونے کے بعد سیف علی خان کو اپنی گاڑی کے بجائے رکشہ میں مقامی اسپتال پہنچایا گیا۔ ان کے ساتھ ان کا بیٹا تیمور علی خان بھی تھا، جنہوں نے رکشہ ڈرائیور کی مدد سے اپنے والد کو اسپتال پہنچایا۔
بھارتی میڈیا سے بات کرتے ہوئے رکشہ ڈرائیور بھجن سنگھ رانا نے بتایا کہ وہ رات کے وقت اپنے گھر کے قریب سے گزر رہے تھے، جب ایک خاتون نے رکشہ روکا اور انہیں سیف علی خان کے اپارٹمنٹ کے سامنے رکشہ لگانے کا کہا۔ اس دوران ایک شخص سفید شلوار قمیض میں خون آلود کپڑوں کے ساتھ رکشے میں بیٹھا، جس کے ساتھ 7 سے 8 سال کا بچہ اور ایک مرد بھی تھا۔ سیف علی خان نے رکشہ ڈرائیور سے کہاانہیں لیلاوتی ہسپتال لے جائے، جس پر وہ روانہ ہوگئے۔ بھجن سنگھ رانا نے یہ نہیں جانا کہ یہ شخص سیف علی خان ہیں، تاہم ہسپتال پہنچنے پر سیف نے گارڈ کو اپنا نام بتایا۔
ہسپتال پہنچنے پر سیف علی خان کا آپریشن کیا گیا اور ان کی ریڑھ کی ہڈی سے چاقو کا 2.5 انچ کا ٹکڑا نکالا گیا۔ تقریباً پانچ دن بعد اداکار کو اسپتال سے ڈسچارج کردیا گیا۔
بھارتی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق، سیف علی خان کو اسپتال پہنچانے والے رکشہ ڈرائیور بھجن سنگھ رانا کو سوشل ورکر فہیم انصاری کی جانب سے 11 ہزار بھارتی روپے کا نقد انعام دیا گیا۔ انعام حاصل کرنے کے بعد بھجن سنگھ رانا نے کہا کہ مجھے بہت فخر محسوس ہو رہا ہے کیونکہ میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ میری زندگی میں ایسا کچھ ہوگا۔ میں سیف علی خان کی مدد کرنے پر خوش ہوں۔