Wednesday, 24 December 2025 | Web Desk
قومی ائیرلائن کی نجکاری سےحکومت کو 55 ارب روپےملیں گے۔ 10 ارب روپے کیش ملےگاجبکہ 45 ارب روپےکی حکومتی ایکویٹی ہوگی، حکومت 45 ارب روپے مالیت کے25 فیصد حصص برقراررکھےگی۔
وزیراعظم کے مشیر برائے نجکاری محمد علی نےوفاقی وزیراطلاعات عطاتارڑکےہمراہ پریس کانفرنس کرتےہوئےکہا،ماضی میں بہت سی غلطیوں کے باعث قومی ائیرلائن کی حالت خراب ہوئی، لیکن اب نجکاری کےبعدامیدہےقومی ائیرلائن کی عظمت رفتہ رفتہ بحال ہوگی۔ توقع ہےنئے مالکان اپریل سے قومی ائیرلائن چلائیں گے۔
محمدعلی کاکہناتھا،پی آئی اےکےپاس صرف 2 طیارے 2017 کے بعد کے ہیں، قومی ائیرلائن کے پاس ڈومیسٹک مارکیٹ شیئر 30 فیصد ہے،پی آئی اےگلوبل نہیں ریجنل ائیر لائن ہے،اس کی زیادہ تر انٹرنیشنل فلائٹس مڈل ایسٹ کی ہیں۔
پی آئی اےملازمین کی تعداد 6 ہزار 700 ہے ،ہفتہ وار قومی ائیرلائن 240 راؤنڈ ٹرپ کر رہی ہے، قومی ائیرلائن کے پاس کل 33 طیارے ہیں، 20 طیارے اپنےجبکہ 13 لیز پر ہیں، 24 طیارے 2010 سے پہلے کے ہیں۔
وزیر اعظم کے مشیرنےکہا 2015 میں قومی ائیرلائن کی منفی ایکویٹی 213 ارب روپے تھی، 2024 میں قومی ائیرلائن کے نقصانات 700ارب روپے تھے، 2015 سے ہر سال نقصان میں تھے، حکومت کو نجکاری سےملےگاتوصرف 55 ارب ملے گا لیکن اب ہمیں نقصان کی بھرپائی نہیں کرناپڑےگی۔۔
فیلڈمارشل کی رہنما
وفاقی وزیراطلاعات عطاتارڑنےکہاپی آئی اےکی نجکاری میں فیلڈمارشل سیدعاصم منیرکی بھرپورمدداوررہنمائی شامل رہی ۔ عطاتارڑنےنجکاری کےعمل کی شفافیت کی تعریف پرسابق وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل کابھی شکریہ اداکیا۔