Home / افغان ٹرانزٹ ٹریڈبندہونےکاپاکستان کوفائدہ ہوگا: خواجہ آصف

افغان ٹرانزٹ ٹریڈبندہونےکاپاکستان کوفائدہ ہوگا: خواجہ آصف

Pak Afghanistan transit trade

Thursday, 14 November 2025 | Web Desk

وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے افغانستان کی جانب سےپاک افغان ٹرانزٹ ٹریڈ میں کمی کے ارادےپرتبصرہ کرتےہوئےکہا کہ یہ اقدام دراصل پاکستان کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگا۔

پاکستان اورافغانستان کےدرمیان کشیدگی کےباعث سرحدی گزرگاہیں 11 اکتوبر سے بند ہیں اور2,600 کلومیٹر طویل سرحد پر جھڑپوں کے بعد تجارت مکمل طور پر معطل اوردونوں جانب تجارتی سامان سےلدےٹرکوں کی طویل قطاریں لگی ہوئی ہیں۔

وزیردفاع خواجہ آصف نے جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان پاکستان کےساتھ تجارت بندکرتاہےتوہم پراس کا کوئی اثر نہیں ہوگا، بلکہ یہ ہمارے لیے راحت کا باعث بنے گا، کیونکہ افغانستان کے نام پر جو سامان کراچی پورٹ پر آتا ہے، وہ آخرکار پاکستانی مارکیٹوں میں ہی پہنچ جاتا ہے۔

انہوں نےکہاافغانستان سےدرآمد ہونے والا سامان دراصل وہاں استعمال ہی نہیں ہوتا بلکہ پاکستان کی مقامی مارکیٹوں کو متاثر کرتا ہے۔ انہوں نےمزیدکہاکہ جب ان کی تجارتی آمدورفت یہاں کم ہوگی تو اس کے ساتھ وہ دہشت گردی بھی کم ہوگی جو تجارت کے بہانے پاکستان میں داخل ہوتی ہے۔ ہمارے لیے بارڈر مینجمنٹ بہتر ہوگی۔

خواجہ آصف کےبقول افغان حکومت کایہ اقدام پاکستان کیلئےزحمت کی شکل میں رحمت جیساہوگا ۔

واضح رہےکہ بدھ کےروز افغانستان کےنائب وزیراعظم برائےاقتصادی امورملاعبدالغنی برادرنےافغان تاجروں کو ہدایت کی کہ وہ پاکستان کی بجائے دیگر ممالک کے راستے تلاش کریں۔ انہوں نے کہا کہ تمام تاجرجلد از جلد برآمدات اور درآمدات کے لیے متبادل راستے تلاش کریں تاکہ افغانستان کی تجارت متاثر نہ ہو۔

ملا برادر نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے بار بار سرحد بند کیے جانے کی وجہ سے یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔ جب تک پاکستان مستقبل میں سرحد بند نہ کرنے کی ٹھوس ضمانت نہیں دیتا، راستے بند رہیں گے۔ اگر پاکستان چاہتا ہے کہ یہ راستے کھلیں تو اسے ناقابلِ تردید ضمانت دینی ہوگی کہ انہیں دوبارہ کسی بھی بہانے بند نہیں کیا جائے گا۔

پاکستانی تاجروں کا ردِعمل

سرحد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق سینئر نائب صدر انجینئر منظور الٰہی نے کہا کہ اگر افغانستان نے پاکستان سے تجارت بند کر دی تو پاکستان کو زیادہ نقصان ہوگا، کیونکہ ایران اور بھارت افغانستان کو سستی ادویات فراہم کر رہے ہیں۔

انہوں نےکہاکہ ازبکستان اور روس انہیں چینی فراہم کرتے ہیں۔ انہیں ہماری ضرورت نہیں، بلکہ ہمیں ان کی ضرورت ہے۔ ہماری صنعتیں متاثر ہوں گی۔ پاکستان نہ صرف افغان مارکیٹ بلکہ وسطی ایشیائی مارکیٹ بھی کھو دے گا۔ اگر صورتحال یہی رہی تو ایک دن میں 100 سے 200 ملین ڈالر کی مارکیٹ متاثر ہوگی۔

پاک افغان جوائنٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے نائب صدر ضیاء الحق سرحدی نے بتایا کہ سرحد بند ہونے کے بعد تقریباً 8,000 ٹرک دونوں جانب پھنسے ہوئے ہیں۔

پی اے جے سی سی آئی کے افغان چیپٹر کے سربراہ خان جان الکوزئی نے کہا کہ افغان تاجر اب بھی پاکستان کے راستے تجارت کے خواہاں ہیں کیونکہ یہ سب سے مختصر راستہ ہے۔ پاکستان اور افغانستان ایک دوسرے کے لیے اہم ہیں، لیکن اگر سرحدیں بند رہیں تو ہمیں مجبوراً متبادل راستے اختیار کرنا ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی تو پاکستان وسطی ایشیائی منڈی کھو دے گا۔ پاکستان ہر سیزن میں افغانستان کے راستے وسطی ایشیا کو 3 سے5 لاکھ ٹن آلو برآمد کرتاہے۔

طورخم بارڈرکی ایک ماہ طویل بندش سے پاکستان کو45 ملین ڈالرسے زائد نقصان ہو چکا ہے،جبکہ درآمدات و برآمدات کے لحاظ سے 16.5ارب روپے کا اضافی نقصان ہوا ہے۔

یہ بھی چیک کریں

Nvidia market value

اینویڈیا5کھرب ڈالرکی حدعبورکرگئی

Sunday, 08 February 2026 | Web Desk اےآئی چپس بنانےوالی امریکن ٹیک جائنٹ اینویڈیا 5 …