ویب ڈیسک: مشرقِ وسطیٰ میں جاری ایران-اسرائیل کشیدگی ایک نئے خطرناک مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ ایرانی افواج نے چوتھی بار اسرائیل کے اہم شہروں تل ابیب اور حیفہ پر بیلسٹک میزائل اور ڈرون حملے کیے، جن کے بعد اسرائیلی شہروں میں خطرے کے سائرن بجنے لگے اور شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
ایرانی میڈیا کے مطابق حیفہ کے رمات ڈیوڈ ایئربیس، پاور پلانٹ اور بندرگاہ سمیت متعدد تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس بار 100سے زائد سپرسونک بیلسٹک میزائل فائر کیے گئے، جن میں عماد، غدر اور خیبر شکن میزائل شامل تھے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق حیفہ کے رمات ڈیوٹاایئربیس کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ جبکہ اسرائیل نے بھی تہران پر تازہ حملہ کردیا۔ایرانی حملے کے بعد اسرائیل میں حیفہ ریفائنری کو مکمل بند کر دیا گیا جبکہ حملے میں 3 ملازمین ہلاک ہوگئے۔
پاسداران انقلاب کے ترجمان جنرل علی محمد نے کہا کہ آپریشن وعدہ صادق سوم کی یہ 9ویں لہر ہے جو صبح تک جاری رہے گی۔ ہم دشمن کو ایک لمحہ کے لیے بھی امن میسر نہیں ہونے دیں گے۔
ایرانی سیکیورٹی کونسل نے اس سے قبل بیان دیا تھا کہ آج چوتھا دن انتہائی خطرناک ہوگا اور اسرائیل کو رات کے وقت دن کا منظر دکھائے دے گا۔
دوسری جانب اسرائیل نے بھی جوابی کارروائی کرتے ہوئے تہران، مشہد اوردیگر علاقوں میں فضائی حملے کیے۔ اسرائیلی حکام کے مطابق ان حملوں میں پاسداران انقلاب کے انٹیلی جنس چیف بریگیڈیئر جنرل محمد کاظمی اور ان کے نائب حسن محقق سمیت متعدد اعلیٰ ایرانی کمانڈرز مارے گئے۔
ایرانی وزارتِ صحت نے تصدیق کی ہے کہ اسرائیلی حملوں میں اب تک 224 افراد شہید ہو چکے ہیں، جن میں اکثریت عام شہریوں کی ہے۔ تہران میں کار بم دھماکوں میں مزید پانچ ایٹمی سائنسدان شہید ہوئے، جس سے جاں بحق سائنسدانوں کی مجموعی تعداد 14 ہو گئی ہے۔
ایرانی افواج کے مطابق انہوں نے اسرائیل کے 44 ڈرونز مار گرائے ہیں جبکہ ایران کے مشہد، امام رضا کے مزار اور ایئرپورٹ پر بھی حملے کیے گئے۔ مشہد ایئرپورٹ پر آپریشنز عارضی طور پر معطل کر دیے گئے ہیں۔
اسرائیلی میڈیا کا کہنا ہے کہ تل ابیب اور حیفہ میں متعدد عمارتیں تباہ ہو گئی ہیں، کئی شہری لاپتہ اور درجنوں زخمی ہیں۔ حیفہ کے ایک آئل ڈپو کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ اسرائیلی ایمرجنسی سروس کے مطابق صرف حالیہ حملے میں 14 افراد ہلاک اور200 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔
ایرانی خفیہ اداروں نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے تہران میں موساد سےمنسلک 2ایجنٹوں کو گرفتار کیا ہے، جبکہ ایک ورکشاپ کو بھی بند کیا گیا ہے جہاں مبینہ طور پر خودکش ڈرون تیار کیے جا رہے تھے۔
اس صورتحال پر ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے شدید ردِ عمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل کے حملوں میں امریکا کی شمولیت کے شواہد موجود ہیں، اور اگر حملے جاری رہے تو خطہ مکمل جنگ کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔
ادھر جرمنی، فرانس اور برطانیہ نے کشیدگی کم کرنے کے لیے ایران کو فوری مذاکرات کی پیشکش کی ہے۔ امریکی سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تنازع کو "حل طلب” قرار دیتے ہوئے ثالثی کی خواہش کا اظہار کیا ہے، تاہم ایران نے اسرائیل اور اس کے اتحادیوں کو خبردار کیا ہے کہ کسی بھی مداخلت کا سخت جواب دیا جائے گا۔
اسرائیل نے یمن میں فضائی کارروائی کرتے ہوئے حوثی ملیشیا کے ملٹری چیف محمد الغماری کو نشانہ بنانے کا بھی دعویٰ کیا ہے، جس کی حوثی یا ایرانی قیادت کی جانب سے تاحال تصدیق نہیں ہوئی۔
صورتحال بدستور کشیدہ ہے اور دونوں ممالک کی قیادت نے اپنے عوام کو مزید حملوں کے لیے تیار رہنے کی ہدایت کی ہے۔ عالمی برادری کی جانب سے فوری مداخلت نہ کی گئی تو یہ تنازع وسیع تر جنگ میں تبدیل ہو سکتا ہے۔