ویب ڈیسک ۔۔ سابق وزیراعظم اور تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی پر توشہ خانہ ٹو کیس میں فردِ جرم عائد کردی گئی۔ کیس کی سماعت اسپیشل جج سینٹرل شاہ رخ ارجمند نے اڈیالہ جیل میں کی۔
کیس کی تفصیلات
سماعت کے دوران اسپیشل جج نے فردِ جرم پڑھ کر سنائی اور سماعت 18 دسمبر تک ملتوی کردی۔ عمران خان اور بشریٰ بی بی دونوں اڈیالہ جیل میں موجود تھے۔ کیس کی پچھلی سماعت 5 دسمبر کو ہوئی تھی، جس میں بشریٰ بی بی حاضر نہیں ہو سکیں، جس پر ان کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے تھے۔
بشریٰ بی بی کی رہائی
اسلام آباد ہائی کورٹ نے اکتوبر کے آخری ہفتے میں بشریٰ بی بی کو 10 لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکوں پر رہائی کا حکم دیا تھا۔ تاہم، نیب نے انہیں توشہ خانہ ٹو کیس میں 13 جولائی کو دوبارہ گرفتار کر لیا۔ بشریٰ بی بی کو اس سے قبل 14 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی، لیکن عدالت نے ان کی سزا معطل کر دی تھی۔
عمران خان کی صورتحال
اسلام آباد ہائی کورٹ نے 20 نومبر کو عمران خان کی ضمانت منظور کی، لیکن وہ دیگر مقدمات میں گرفتاری کے باعث تاحال اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ عمران خان کے خلاف مختلف تھانوں میں 16 مقدمات درج ہیں، جن میں سے کئی میں انہوں نے ضمانت حاصل نہیں کی۔
پس منظر
توشہ خانہ ٹو کیس میں تحقیقات کے لیے ایف آئی اے کی تین رکنی جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دی گئی تھی۔ نیب کی انکوائری کے مطابق، کیس عمران خان اور بشریٰ بی بی پر قیمتی تحائف کو غیر قانونی طریقے سے اپنے پاس رکھنے اور فروخت کرنے کے الزامات سے متعلق ہے۔
یہ کیس نیب ترامیم کے بعد ایف آئی اے کو منتقل کیا گیا تھا، جس میں سات گھڑیوں سمیت دس قیمتی تحائف کا معاملہ شامل ہے۔