Updated: Tuesday, 30 September 2025 | Web Desk
یقین کرنا مشکل ہے کہ یہ پاکستان کی قومی ٹیم تھی، یا کسی کلب کی بی ٹیم! بنگلا دیش نے دوسرے ٹی ٹوئنٹی میں پاکستان کو 8 رنز سے شکست دے کر سیریز 0-2 سے اپنے نام کرلی — اورنام کےشاہین کسی کام کےنہ نکلے۔
ڈھاکاکےمیرپورسٹیڈیم میں کھیلے گئے دوسرے ٹی ٹوئنٹی میچ میں پاکستانی ٹیم 134 رنز کے آسان ہدف کے تعاقب میں 125 رنزپرہی ڈھیرہوگئی۔اس شکست نےپاکستانی بیٹنگ لائن کی نااہلی کاپول کھول کےرکھ دیا۔۔
پاکستان کی جانب سے صرف فہیم اشرف نے 51 رنز کے ساتھ کچھ مزاحمت دکھائی، باقی سب بیٹرز یا تو دباؤ میں آ گئے یاپھرآئےاورگئے۔
- عباس آفریدی 19
- احمد دانیال 17
- خوشدل شاہ 13
- سلمان آغا (کپتان) 9
- فخر زمان 8
- صائم ایوب 1
- محمد حارث، محمد نواز، حسن نواز بغیر کھاتا کھولے واپس پویلین لوٹے
یعنی ٹیم کی آدھی بیٹنگ لائن نے ڈبل فیگرز تک رسائی بھی نہ حاصل کی۔ بنگلا دیش کا بالنگ اٹیک چھا گیا۔
بنگلا دیش کی جانب سے:
- شریف الاسلام نے 3 وکٹیں لیں
- تنظیم حسن ثاقب اور مہدی حسن نے 2،2 کھلاڑی آؤٹ کیے
- مستفیض الرحمان اور رشاد حسین کو بھی ایک، ایک وکٹ ملی
اس سے قبل پاکستان کے فیلڈنگ اور بولنگ کے سہارے، بنگلا دیش 133 رنز پر آل آؤٹ ہوئی — لیکن یہی اسکور جیت کے لیے کافی ثابت ہوا۔
- جاکر علی 55 رنز کے ساتھ نمایاں
- مہدی حسن 33
باقی تمام بیٹرز 13 رنز سے کم پر آؤٹ ہوئے۔
پاکستان کی طرف سے:
- سلمان مرزا، احمد دانیال (ڈیبیو پر) اور عباس آفریدی نے 2،2 وکٹیں لیں
- محمد نواز اور فہیم اشرف کو ایک، ایک وکٹ ملی
یہ ٹیم کس نے بنائی؟
پاکستان کی ٹیم نہ بیٹنگ میں اعتماد دکھا سکی، نہ بولنگ میں تسلسل، اور نہ ہی کپتانی میں کوئی حکمت عملی نظر آئی۔ نئے کھلاڑی آزمانا بُری بات نہیں، لیکن بغیر تیاری اور حکمتِ عملی کے تجربے صرف شکست کی ضمانت بنتے ہیں۔
سیریز ہاتھ سے جا چکی ، لیکن اگر تیسرا میچ بھی ایسے ہی گیا تو سوال صرف ٹیم پر نہیں،سلیکشن پالیسی اورچیئرمیں پاکستان کرکٹ بورڈمحسن نقوی پربھی اٹھیں گے۔ تمام تراختیارات اورفری ہینڈکےباوجودتاحال وہ بطورپی سی بی چیئرمین اپنی اہلیت ثابت کرنےمیں ناکام دکھائی دیتےہیں۔