Thursday, 4 September 2025 | Web Desk
مانچسٹر پولیس نے پاکستانی کرکٹر حیدر علی کے خلاف مبینہ ریپ کا کیس ناکافی شواہدکی بناپرخارج کردیا۔ مانچسٹرپولیس کےذرائع کےمطابق الزامات سےبری ہونےکےبعدحیدرعلی کوان کاپاسپورٹ واپس مل جائےگااوروہ بغیرکسی پابندی کےبرطانیہ آجاسکیں گے۔
یادرہےکہ پاکستان شاہینزکرکٹ ٹیم کےحالیہ دورہ انگلینڈکےدوران ایک خاتون نے(جس کی شناخت ظاہرنہیں کی گئی) نےحیدرعلی پران سےجنسی زیادتی کاالزام لگایا ۔ اس الزام کےبعدمانچسٹرپولیس نےحیدرعلی کوگرفتارکرکےبعدازاں انہیں ضمانت پررہاکردیا۔ تاہم ان کاپاسپورٹ رکھ لیاتھا۔ حیدرعلی کےبرطانیہ چھوڑنےپربھی پابندی تھی۔
پولیس نے حیدر علی کے خلاف تحقیقات کے لیے اضافی وقت لیا لیکن کرکٹر کے خلاف کوئی الزام ثابت نہ ہوسکا۔ مانچسٹر پولیس کے مطابق 4 اگست کو جنسی زیادتی کی شکایت موصول ہوئی اور زیادتی کا واقعہ مبینہ طور پر 23 جولائی کو مانچسٹر کی حدود میں پیش آیا۔
ورلڈباکسنگ نےالجیرین باکسرسےمعافی مانگ لی
پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نےیہ واقعہ سامنےآنےکےبعدکرکٹرحیدرعلی کو معطل کردیا تھا۔ پی سی بی کا کہنا تھا کہ قومی ٹیم کے بلے باز حیدر علی مانچسٹر پولیس کے ایک کرمنل کیس میں شامل تفتیش ہیں جس کے باعث انہیں معطل کیا گیا ۔ پی سی بی کےمطابق حیدرعلی کوقانونی مددفراہم کی گئی ۔۔