مانیٹرنگ ڈیسک ۔۔ اسرائیل نےغزہ میں تعلیم کاانفراسٹرکچرتباہ کردیا،افغانستان میں طالبان نےلڑکیوں سےتعلیم کاحق ہی چھین لیا۔ نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی کااسلام آبادمیں لڑکیوں کی تعلیم سےمتعلق بین الاقوامی کانفرنس سےخطاب ۔
ملالہ یوسفزئی نےکہااگرافغان لڑکیوں کی تعلیم کی بات نہ کی گئی تواس کانفرنس کامقصدپورانہیں ہوگا ۔ طالبان خواتین کوانسان نہیں سمجھتے۔ انہوں نےعورتوں کےحقوق چھیننےکیلئےسوسےزائدقانون سازیاں کی ہیں۔
طالبان اپنے جرائم کو ثقافت اورمذہب کے طور پر پیش کرتے ہیں،حالانکہ حقیقت میں اس میں کچھ بھی اسلامی نہیں۔ یہ پالیسیاں اسلامی تعلیمات کی عکاسی نہیں۔ طالبان پالیسیاں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ہیں۔
ملالہ نےکہاپاکستان میں سواکروڑبچیاں سکول نہیں جاتیں ۔ میں نےاپناسفرپاکستان سےشروع کیااورمیرادل ہمیشہ پاکستان میں رہتاہے ۔
ملالہ نےکہامعیشت کی بہتری کیلئے خواتین کا کردار اتنا ہی اہم ہے جتنا مردوں کا۔بیشترحکومتیں لڑکیوں کی تعلیم کو نظرانداز کرتی ہیں لیکن اس کےباوجود آج لڑکیوں کی تعلیم کا معاملہ مختلف نظر آرہا ہے، اگر ہم بحرانوں کو نظراندازکریں گے تو اسلام کی بنیادی تعلیمات حاصل نہیں کرپائیں گے۔