Home / اہم پاکستانی کوسعودی شہریت مل گئی

اہم پاکستانی کوسعودی شہریت مل گئی

Pakistani gets KSA nationality

تاریخ: 4 جولائی 2025 | نیوز میکرز ویب ڈیسک

سعودی عرب کی جانب سے غیرمعمولی ٹیلنٹ کےحامل افرادکو شہریت دینے کے اقدام کے تحت ایک اور پاکستانی کا نام عالمی سطح پر روشن ہو گیا۔ پاکستانی نژاد ڈاکٹر محمود خان ان ابتدائی خوش نصیب افراد میں شامل ہیں جنہیں سعودی حکومت نے اپنی شہریت سے نوازا ہے۔

یہ اقدام سعودی عرب کے وژن 2030 کا حصہ ہے، جس کا مقصد مملکت کو تیل پر انحصار کم کر کے سائنسی، طبی، تکنیکی اور ثقافتی شعبوں میں عالمی معیار کے ماہرین کو اپنی طرف متوجہ کرنا اور ترقی کی نئی راہیں کھولنا ہے۔

ڈاکٹر محمود خان کون ہیں؟

ڈاکٹر محمود خان کا تعلق اگرچہ پاکستان سے ہے، لیکن وہ انگلینڈ میں پلے بڑھے اور انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم وہیں حاصل کی۔ انہوں نے یونیورسٹی آف لیورپول میڈیکل اسکول سے طب کی ڈگری حاصل کی اور اس کے بعد عالمی سطح پر نمایاں سائنسی و تحقیقی عہدوں پر فائز رہے۔

ان کے کیریئر کی جھلکیاں درج ذیل ہیں:

  • پپسی کو (PepsiCo) میں گلوبل ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ کے وائس چیئرمین اور چیف سائنٹیفک آفیسر رہے۔
  • تاکیڈا فارماسیوٹیکل کمپنی میں گلوبل ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ سینٹر کے صدر کے طور پر خدمات انجام دیں۔
  • مائیو کلینک کے ذیلی ادارے ڈائبٹیز، اینڈوکرائنولوجی اور نیوٹریشن ٹرائلز یونٹ کے ڈائریکٹر بھی رہ چکے ہیں۔
  • ان دنوں وہ ہیولوشن فاؤنڈیشن (Hevolution Foundation) کے سی ای او کے طور پر کام کر رہے ہیں، جو ریاض میں قائم ایک غیر منافع بخش ادارہ ہے۔ یہ ادارہ بائیو ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری اور صحت سے متعلق سائنسی تحقیق کو فروغ دیتا ہے۔

پاکستان اورسعودی عرب کےدرمیان دفاعی معاہدےکی اہمیت

سعودی وژن 2030 — ٹیلنٹ کے لیے نئے دروازے

یاد رہے کہ نومبر 2021 میں سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے ایک شاہی فرمان جاری کیا تھا جس کے تحت مختلف شعبہ جات جیسے سائنس، طب، ثقافت، کھیل اور ٹیکنالوجی میں مہارت رکھنے والے افراد کو سعودی شہریت دی جا سکتی ہے۔

اسی پروگرام کے تحت ڈاکٹر محمود خان کو شہریت دی گئی، اور یہ اقدام اس بات کی علامت ہے کہ سعودی عرب اب بین الاقوامی دماغوں کی قدر کر رہا ہے اور اپنی سرزمین پر عالمی معیار کی تحقیق اور ترقی کافروغ چاہتا ہے۔

پاکستان سے رشتہ — فخر کا باعث

OPEN سلیکان ویلی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ڈاکٹر محمود خان نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا:

"میری پرورش انگلینڈ میں ہوئی، پاکستان میں رہنے کا موقع نہ ملا، لیکن اپنے پاکستانی ہونے پر ہمیشہ فخر رہا ہے۔”

سائنس، طب اور انسانیت کی خدمت

ڈاکٹر محمود خان کے سائنسی وژن کا مرکزی نقطہ عمر بڑھنے سے متعلق صحت کے مسائل، دائمی بیماریوں کی روک تھام، اور غذائی سائنس میں تحقیق ہے۔ ان کی زیر قیادت ہیولوشن فاؤنڈیشن آنے والے برسوں میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کے منصوبے رکھتی ہے تاکہ عالمی سطح پر صحت مند زندگی کو ممکن بنایا جا سکے۔

نتیجہ: ایک نئی راہ، ایک نئی پہچان

ڈاکٹر محمود خان کو سعودی شہریت دیے جانے کا فیصلہ صرف ان کی ذاتی کامیابی نہیں بلکہ پاکستانی ٹیلنٹ کی عالمی سطح پر تسلیم شدہ اہمیت کا مظہر بھی ہے۔ یہ خبر ان تمام نوجوان پاکستانیوں کے لیے ایک مثبت پیغام ہے جو سائنس، ٹیکنالوجی اور تحقیق کے میدان میں کچھ کر گزرنے کا عزم رکھتے ہیں۔

یہ بھی چیک کریں

DG ISPR Press Briefing on Pak Afghan border clash

آپریشن ضرب للحق، 297 افغان کارندےہلاک، 400 سےزائدزخمی

Saturday, 28 February 2026 | Web Desk آپریشن غضب للحق میں 297 طالبان رجیم کےاہلکاراورخوارج …