Tuesday, 03 March 2026 | Monitoring Desk
افغان طالبان اورفتنہ الخوارج کےخلاف پاک فوج کی زمینی وفضائی کارروائیاں کامیابیوں کےساتھ جاری ہیں۔
سکیورٹی ذرائع کےمطابق ، آپریشن غضب للحق جاری وساری ہےاورمقاصدکےحصول تک نہیں رکےگا ۔ پاک فضائیہ نےننگرہارمیں کارروائی کرتےہوئےخوگانی بیس کوتباہ کردیا۔ سکیورٹی ذرائع کاکہناہےافغان طالبان اورفتنہ الخوارج کوہرمحاذپرناکامی اورہزیمت کاسامناہے۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک فوج نے بھرپور فضائی کارروائی کے ذریعے جلال آباد میں ایمونیشن ڈیپو اور ڈرونز اسٹوریج کو تباہ کر دیا۔
سینیئر سکیورٹی عہدیدار نے آپریشن غضبُ للحق کے حوالے سے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ افغان طالبان کو فیصلہ کرنا ہوگا پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں یا سرگرم دہشت گرد گروہوں کے ساتھ۔ پاکستان کے آپریشنز کا دورانیہ افغان طالبان حکومت کے زمینی اقدامات پر منحصر ہوگا، افغان طالبان حکومت کے فتنہ خوارج اور فتنہ الہندوستان کی سہولت کاری ترک کرنے تک آپریشن ختم نہیں ہونگے۔
ایران جنگ پربات کرتےہوئےان کاکہناتھا،پاکستان متوازن پالیسی پر عمل پیرا ہے، ایران نے پاکستان کے ردِعمل کو سراہا ہے جس کی تائید چین اور روس نے بھی کی۔ سینیئر سکیورٹی عہدیدار کے مطابق ایسا تاثردینا کہ پاکستان اگلا ہدف ہو سکتا ہے، بے بنیاد اور حقائق کے منافی ہے، پاکستان اور ایران کو عسکری، خارجہ پالیسی اور داخلی حالات کے اعتبار سے یکساں قرار نہیں دیا جا سکتا۔
ان کا کہنا تھاکہ انتشار پھیلانے والے عناصر کی پیدا غلط فہمیوں اور پروپیگنڈے کی پاکستان سخت مذمت کرتا ہے، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ دہائیوں پر محیط برادرانہ اور اسٹریٹیجک تعلقات کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ ان کامزیدکہناتھاکہ انٹرنیشنل اسٹیبلائزیشن فورس سے متعلق تفصیلات ابھی طے ہونا باقی ہیں، پاکستان کی آئی ایس ایف میں شرکت کا فیصلہ حکومتِ پاکستان مکمل جانچ پڑتال کے بعدکیاجائےگا۔
خیال رہے کہ آپریشن غضب للحق کے تحت پاک افواج کی کارروائیوں میں اب تک افغان طالبان رجیم کے 435 کارندے مارے گئے اور 630 سے زائد زخمی ہوئے۔ 188 ٹینک، اسلحہ بردار گاڑیاں اور آرٹلری گنز تباہ، افغانستان میں 51 مقامات کو فضائی کارروائی میں کامیابی سے نشانہ بنایا گیا۔