ویب ڈیسک ۔۔ بانی پی ٹی آئی عمران خان نے190 ملین پاؤنڈ کیس میں سزاپرملنے پرمزیدردعمل دیتےہوئےحکومت اوراس کےاداروں کونام نہاد’بند لفافہ‘کھولنےکی دعوت دی ہےتاکہ اس میں موجودرازعوام کےسامنےافشاکرکےدودھ کا دودھ اورپانی کاپانی کیاجاسکے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ’ایکس‘پرجاری بیان میں عمران خان کاکہناتھاجب مقدمےکامقصدمحض پراپیگنڈا کرکےصبح شام جھوٹ بولناہوتوکوئی چیزپبلک نہیں ہوسکتی۔ پوسٹ کے مطابق عمران خان نے اڈیالہ جیل میں وکلا اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہاگھریلوخواتین کو سیاست میں گھسیٹ کران کا وقارمجروح کرنا ہماری معاشرتی،اخلاقی اورمذہبی روایات کے منافی ہے۔
عمران خان نےکہابشرٰی بیگم کاسیاست سے کوئی تعلق نہیں، محض مجھے دباؤ میں لانےکیلئےانہیں نشانہ بنانا قابل مذمت ہے، بشرٰی بی بی نے صرف میری اہلیہ ہونےکی بدولت صعوبتیں برداشت کیں، خواتین کوسیاست میں گھسیٹ کرنشانہ بنانااخلاقی گراوٹ کی انتہا ہے۔
بانی پی ٹی آئی نے کہاتحریک انصاف کی جدوجہد کا مقصد جمہوریت کی سربلندی، آئین و قانون کی حکمرانی، آزاد عدلیہ ومیڈیااوربنیادی شہری حقوق کا تحفظ ہےاورہم اس میں کامیاب ہوں گے۔میں آخری سانس تک اس کے لیے جدوجہد کروں گا۔
عمران خان کامزید کہنا تھاپراسیکیوشن آج تک یہ ثابت نہیں کر سکی کہ یہ منی لانڈرنگ ہے۔ اگر مجھ پر پبلک آفس ہولڈر ہونے کی بنا پر الزام لگایا گیا تو گھریلو خاتون بشری بی بیٰ کو کس کی ایما پر مجرم قرار دیا گیا؟فیصلے کا ایک اور مضحکہ خیز پہلو یہ ہے کہ القادر یونیورسٹی کو حکومتی تحویل میں لے لیا گیا۔ کیا فرمائشی احمقوں کے اس ٹولے کو یہ بھی نہیں پتا کہ یہ حکومتی پراپرٹی نہیں؟ ٹرسٹ کی پراپرٹی کو حکومت کس قانون کے تحت اپنی تحویل میں لے سکتی ہے؟
واضح رہے کہ 17 جنوری کو عدالت نے 190 ملین پاؤنڈ کے ریفرنس میں عمران خان کو مجرم قرار دیتے ہوئے 14 سال قید اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو 7 سال قید کی سزا سنائی تھی۔
آپ نےگھبرانابالکل نہیں
190ملین پاؤنڈ ریفرنس میں سزا ملنے کے بعد ردعمل دیتے ہوئےعمران خان نےکہاتھاسب سے پہلے تو آپ نے گھبرانا نہیں۔
کیس کافیصلہ
17جنوری کوراولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں قائم احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا نے 190 ملین پاؤنڈ کے ریفرنس میں عمران خان کو مجرم قرار دیتے ہوئے 14 سال قید اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو 7 سال قید کی سزا سنائی تھی، جس کے بعد بشریٰ بی بی کو کمرہ عدالت سے گرفتار کرلیا گیا۔
احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا نے عمران خان پر 10 لاکھ اور بشریٰ بی بی پر 5 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا۔جرمانےکی عدم ادائیگی پرعمران خان کو مزید 6 ماہ جب کہ بشریٰ بی بی کو 3 ماہ قید کی سزا بھگتنا ہوگی۔
کیس کا پس منظر
واضح رہے190 ملین پاؤنڈز یا القادر ٹرسٹ کیس میں عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی پرالزام ہےکہ انہوں نےپی ٹی آئی کے دور حکومت میں برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی (این سی اے) کی جانب سے حکومتِ پاکستان کو بھیجے گئے 50 ارب روپے کو قانونی حیثیت دینے کے عوض بحریہ ٹاؤن لمیٹڈ سے اربوں روپے اور سینکڑوں کنال مالیت کی اراضی حاصل کی۔
یہ کیس القادر یونیورسٹی کے لیے زمین کے مبینہ طور پر غیر قانونی حصول اور تعمیر سے متعلق ہے جس میں ملک ریاض اور ان کی فیملی کے خلاف منی لانڈرنگ کے کیس میں برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی (این سی اے) کے ذریعے 140 ملین پاؤنڈ کی وصولی میں غیر قانونی فائدہ حاصل کیا گیا۔
عمران خان پر یہ بھی الزام ہے کہ انہوں نے اس حوالے سے طے پانے والے معاہدے سے متعلق حقائق چھپا کر کابینہ کو گمراہ کیا، رقم (140 ملین پاؤنڈ) تصفیہ کے معاہدے کے تحت موصول ہوئی اور اسے قومی خزانے میں جمع کرانےکی بجائےبحریہ ٹاؤن کراچی کے 450 ارب روپے کے واجبات کی وصولی میں ایڈجسٹ کیا گیا۔
آٹھ فروری کوملک میں یوم سیاہ منانےکااعلان
عمران خان کاکہناتھا8 فروری کو پورے ملک میں یوم سیاہ منائیں گے، اس دن پاکستانی عوام کے مینڈیٹ کے ساتھ کھلواڑ کیا گیا، عوام کے مینڈیٹ پر ڈاکا مار کر فارم 47 کی جعلی حکومت مسلط کی گئی۔
علی امین گنڈاپورکو ہدایت کرتاہوں کہ 8 فروری کو پورےخیبرپختونخواسےقافلےپشاورجمع ہوکر احتجاج کریں۔