Home / گوادرسےنکلےگاایک شاندارشاہکار

گوادرسےنکلےگاایک شاندارشاہکار

Gawadar Development projects

تاریخ: جولائی 13، 2025| نیوزمیکرزویب ڈیسک

پاکستان کےجنوب مغرب میں واقع بندرگاہ جس کےمقدرکاستارہ پوری آب و تاب سےچمکنےوالاہے،کیونکہ وفاقی حکومت نےگوادر کو عالمی تجارتی نقشے پر ایک فعال، جدید اور سٹریٹجک بندرگاہ بنانےکےخواب کوجلدحقیقت میں بدلنےکاعزم کرلیاہے۔

وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کی زیر صدارت ہونے والے اعلیٰ سطحی اجلاس میں ایک کے بعد ایک ایسے اقدامات کا اعلان کیا گیا، جن سے صاف ظاہر ہے کہ اب گوادر صرف ایک بندرگاہ نہیں رہے گا، بلکہ یہ خلیج، وسطی ایشیا اور جنوبی ایشیا کو جوڑنے والا گیٹ وے بننے جا رہا ہے۔

زیرِ سمندر سرنگ: گوادر سے عمان تک، ایک نئی دنیا کا دروازہ

سب سے بڑا اور پرکشش وژن وہ ہے جس کا تصور ہی دل خوش کن ہے — گوادر سے عمان تک زیرِ سمندر سرنگ کی فزیبلٹی اسٹڈی۔
چار ملکی کنسورشیم اس پر کام کرے گا، جو نہ صرف خلیج تعاون کونسل بلکہ جنوبی ایشیائی منڈیوں کو ایک دوسرے سے جوڑ دے گا۔ یہ صرف ایک سرنگ نہیں، بلکہ ایک نئی دنیا کی کنکشن لائن ہوگی — جہاں سے پاکستان عالمی تجارت کا نیا مرکز بن کرابھرےگا۔

گوادر۔۔ ایک سٹریٹجک ٹریڈحب

وفاقی وزیراحسن اقبال نے وزارت خارجہ کو ہدایت کی ہے کہ گوادر بندرگاہ کو بین الاقوامی روڈ شوز میں سٹریٹجک ٹریڈ حب کے طور پر اجاگر کیا جائے — ایک ایسا مقام جو مشرقِ وسطیٰ، وسطی ایشیا، چین اور افریقہ کے درمیان قدرتی پل کا کردار ادا کر سکتا ہے۔ دنیا کو بتایا جائے گا کہ یہاں سرمایہ کاری کا مستقبل روشن ہے۔

نئی تجارتی راہیں

وزارت بحری امور نے اعلان کیا ہے کہ نجی شپنگ لائنز سے رابطہ کر کے گوادر اور خلیج فارس کے درمیان ٹرانس شپمنٹ آپریشن شروع کیا جا رہا ہے۔
کھجور، معدنیات، سمندری خوراک اور سیمنٹ وہ ابتدائی اشیاء ہیں جنہیں ایکسپورٹ کا ذریعہ بنایا جائے گا — جس سے بلوچستان کی کان کنی، ماہی گیری اور پروسیسنگ انڈسٹری کو نئی زندگی ملے گی۔

سیف سٹی، فش ویلیو چین،عالمی معیار کی سہولیات

گوادر کو صرف ایک بندرگاہ نہیں بلکہ ایک زندہ، محفوظ، اور جدید شہر بنانے کے لیے گوادر سیف سٹی منصوبے پر تیزی سے کام جاری ہے۔ اب تک 30 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے، اور 2026 تک یہ منصوبہ مکمل ہونے کی توقع ہے۔

چینی کمپنی کے اشتراک سے فِشریز، آبی زراعت اور فش پروسیسنگ ویلیو چین میں جدت لائی جا رہی ہے — جبکہ ماہی گیروں کے حقوق کے تحفظ کو بھی یقینی بنانے پر زور دیا جا رہا ہے۔

بلوچستان کوکوئی پاکستان سےالگ نہیں کرسکتا

گوادر کو خصوصی مائننگ پورٹ بنانے کا عزم

اجلاس میں بلوچستان کو معدنی وسائل سے فائدہ دلانے کے لیے گوادر کو خصوصی مائننگ پورٹ بنانے پر بھی مشاورت ہوئی، اور ریلوے کے ذریعے ایک منرل کوریڈور کی فزیبلٹی بھی مکمل کر لی گئی ہے۔

گوادر کی یہ کہانی ایک بندرگاہ کی نہیں، پاکستان کے مستقبل کی کہانی ہے۔

یہ صرف پالیسیوں کا مجموعہ نہیں، بلکہ ایک وژن ہے — جس میں سمندر کی گہرائیاں، زمین کی دولت اور انسانوں کا خواب شامل ہے۔

گوادر کا وقت آ گیا ہے — اور یہ صرف آغاز ہے۔

یہ بھی چیک کریں

Pakistan Defence Minister Khawaja Asif on US-Israel strikes on Iran and regional implications

اسرائیل پاکستانی سرحدتک پہنچناچاہتاہے: خواجہ آصف

Tuesday, 03 March 2026 | Web Desk وزیردفاع خواجہ آصف نےایران پرامریکی اوراسرائیلی حملےپرتبصرہ کرتےہوئےکہاہےکہ …