Home / غزہ میں کیاہورہاہے؟ تازہ ترین اپ ڈیٹس

غزہ میں کیاہورہاہے؟ تازہ ترین اپ ڈیٹس

Latest Gaza updates

مانیٹرنگ ڈیسک ۔۔ امریکااورحماس کی لڑائی میں ہرگزرتےدن کےساتھ شدت آتی جارہی ہے۔ بی بی سی کےمطابق اسرائیلی فورسزکےحملوں میں شہیدفلسطینیوں کی تعداد2900سےتجاوزکرچکی ہےجن میں خواتین اورمعصوم بچوں کی تعدادسینکڑوں میں ہے۔

غزہ میں اس وقت انسانی بحران شدیدہورہاہےاورپوراعلاقہ اسرائیلی بمباری کےبعدملبےاورلاشوں کےڈھیرمیں تبدیل ہوگیاہے۔ خاندانوں کےخاندان اجڑگئےہیں اورکئی ایسےبھی ہیں جن کےخاندان میں کوئی تسلی دینےوالابھی نہیں بچا۔

صیہونی فوج نےبربریت کی انتہاکرتےہوئےاب ہسپتالوں کوبھی نشانہ بناناشروع کردیاہے۔ غزہ کےہسپتالوں پرحملوں میں بہت سےڈاکٹرزاپنی جان گنواچکےہیں۔

ایک اسرائیلی سکالراورپروفیسرکےمطابق اسرائیلی فوج جوکررہی ہےوہ نسل کشی کی تعریف کےعین مطابق ہے۔

ہسپانوی وزیر برائے سماجی انصاف ایون بلیرا نے غزہ میں جاری جنگی جرائم کو اسرائیل کی جانب سے فلسطینیوں کی نسل کشی قرار دیا ہے۔

امریکی صدرجوبائیڈن کل اسرائیل کادورہ کررہےہیں جہاں انہیں جنگ کی صورتحال پربریفنگ دی جائےگی۔ امریکی صدرفلسطین کےصدرسےبھی ملیں گے۔اس سےپہلےامریکی وزیرخارجہ اوروزیردفاع بھی اسرائیل کادورہ کرچکےہیں۔ اس بات سےاندازہ لگایاجاسکتاہےکہ امریکااس جنگ میں کس حدتک دلچسپی لےرہاہے۔

امریکااپناایک عددطیارہ برداربحری بیڑاپہلےہی اسرائیل کی مددکیلئےبھیج چکاہےجبکہ دوسرابھیجنےکااعلان کرچکاہے۔ زمینی فوج کیلئےجدیداسلحہ توجنگ کےشروع میں ہی پہنچادیاگیاتھا۔

دوسری طرف ایران نےخبردارکیاہےکہ اگرجنگ کادائرہ بڑھاتووہ لاتعلق نہیں رہےگاجبکہ اسی حوالےسےامریکی قومی سلامتی کےمشیرجیک سلیوان نےدھمکی دی ہےکہ اگرایران جنگ میں کوداتوبرداشت نہیں کریں گے۔

ایران کے وزیر خارجہ حسین امیر عبدالہیان نے کہا کہ غزہ میں اسرائیل کے جرائم پر خاموش تماشائی نہیں بنے رہ سکتے اس لیے مزاحمتی محاذ کا حملہ ممکن ہے اور ایران کا خود جنگ میں شریک ہونا بھی خارج از امکان نہیں۔

پاکستان نےفلسطینیوں کےساتھ مکمل اظہاریکجہتی کرتےہوئےہرقسم کی امداددینےکااعلان کیاہے۔

یہ بھی چیک کریں

X allows sexual content

ایکس پرفحش مواددکھانےکی اجازت

ویب ڈیسک ۔۔ دنیاکےبڑےسوشل میڈیاپلیٹ فارم ایکس کی طرف سےبہت بڑااعلان سامنےآگیا۔ انتظامیہ کےمطابق صارفین …