Sunday, 22 March 2026 | Web Desk
ایران کےخلاف جنگ میں ایک خبرکےمطابق امریکاکے16کےقریب لڑاکاطیارےتباہ ہوئےلیکن حالیہ دنوں میں ایران نےجس طرح امریکاکےانتہائی جدیداورففتھ جنریشن کےملٹی رول ایف-35 اسٹیلتھ لڑاکا طیارے کو نشانہ بنایا، اس نےدنیابھرکےجنگی ماہرین کویہ سوچنےپرمجبورکردیاکہ آخرایران نےیہ کیسےکیاہوگا؟
Iran just released footage reportedly showing one of its air defense systems successfully hitting an American F-35. pic.twitter.com/lWxzJsw5PN
— OSINTtechnical (@Osinttechnical) March 19, 2026
اس ملٹی ملین ڈالرسوال کاجواب چینی ایوی ایشن ماہرین نےڈھونڈنےکی کوشش کی ہے۔ چینی فوجی ماہرین اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ ایران نےراڈارپردکھائی نہ دینےوالے جدید ترین اسٹیلتھ طیارے کو کیسےڈھونڈنکالا۔
چینی ماہرین کامانناہےکہ ایران نے ممکنہ طور پر ایف-35 کےریڈارسےبچنےکی صلاحیت کو بائی پاس کرتےہوئےالیکٹروآپٹیکل انفراریڈ سینسرسسٹمزکااستعمال کرتےہوئےاسےنشانہ بنایا۔
پیپلز لبریشن آرمی کے کرنل ریٹائرڈ یوئے گانگ کےمطابق اگرچہ ایف-35 ریڈارکودھوکادینےمیں ماہرہےلیکن اس کی اسٹیلتھ صلاحیتیں انفراریڈ سینسرز کے سامنےماند پڑ سکتی ہیں، انفراریڈسینسرزطیارے سے خارج ہونے والی حرارت کو ٹریک کرتے ہیں۔
عسکری ماہرسونگ ژونگ پنگ کاکہناہےالیکٹرو آپٹیکل/انفراریڈ سینسرزکوئی برقی لہریں خارج نہیں کرتےاوراسی باعث ایف-35 کوپتاہی نہیں چلتاکہ موت اس کےپیچھےہے۔
فوجی ماہرین کےخیال میں ایران نےکسی مہنگےفضائی دفاعی نظام جیسے ایس-300 کےبجائے ممکنہ طورپرانفراریڈ گائیڈڈ میزائل استعمال کیا جوروسی ساختہ آر-27ٹی ائیر ٹوائیر میزائل کاموڈیفائیڈورژن ہوسکتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر ایس-300 دفاعی نظام کااستعمال کیا جاتا تو امریکی طیارہ فضامیں ہی تباہ ہوسکتاتھا۔ نسبتاً ہلکےاورکم مہلک انفراریڈ میزائل نے طیارے کو جزوی نقصان پہنچایا جس کے باعث وہ ہنگامی لینڈنگ کرنے میں کامیاب رہا۔
میڈیارپورٹس کے مطابق ایران نے 1990 کی دہائی میں روس سے مگ-29 طیاروں کے ساتھ آر-27ٹی میزائل بھی حاصل کیے تھے۔ یہ میزائل تقریباً 0.23 میٹر قطر کا ہوتا ہے اور کم طاقت کے باوجود اس کی رفتار آواز کی رفتار سے 5 گنا زیادہ تک پہنچ سکتی ہے جو کئی اسٹیلتھ طیاروں کی رفتار سے زیادہ ہے۔