ویب ڈیسک ۔۔ بنگلہ دیش کی معزول وزیراعظم شیخ حسینہ کے بھارت فرار کے بعد سے ڈھاکہ اور اسلام آباد کے درمیان تعلقات میں تیزی سے بہتری آ رہی ہے۔ اس دوران نئی دہلی کی جانب سے روایتی طور پر مخالفانہ پروپیگنڈا بھی جاری ہے۔
بنگلہ دیشی میڈیا کے مطابق بنگلہ دیش نے پاکستانی شہریوں کے لیے سیکیورٹی کلیئرنس کی شرط ختم کر دی ہے، جسے دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔ اس پیش رفت پر بھارت میں سخت ردعمل سامنے آیا ہے، اور سوشل میڈیا پر بھارتی صارفین نے شدید تنقید کرتے ہوئے خدشات کا اظہار کیا ہے۔ ایک بھارتی صارف نے طنزیہ انداز میں کہا کہ اگر تعلقات اسی طرح بڑھتے رہے تو بنگلہ دیش جلد ہی پاکستان میں ضم ہو جائے گا۔
تجارتی تعلقات میں بہتری
حال ہی میں تقریباً 20 سال کے بعد پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تجارتی تعلقات میں بھی مثبت پیش رفت دیکھنے میں آئی ہے۔ ستمبر کے مہینے میں پاکستان سے ایک مال بردار بحری جہاز پہلی مرتبہ بنگلہ دیش پہنچا، جو دوطرفہ تجارت میں ایک اہم قدم ہے۔
شیخ حسینہ کی سابقہ حکومت نے 2009 سے پاکستانی مصنوعات پر مختلف پابندیاں عائد کر رکھی تھیں، اور کئی اشیا کو ’ریڈ لسٹ‘ میں شامل کیا گیا تھا۔ اس کے باعث پاکستانی مصنوعات کی کلیئرنس میں تاخیر اور برآمدات میں کمی دیکھنے میں آئی تھی۔ تاہم، ان پابندیوں کے خاتمے کے بعد دونوں ممالک کے تاجروں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔
عبوری حکومت اور مستقبل کے امکانات
شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے کے بعد عبوری حکومت کی قیادت محمد یونس کے ہاتھ میں ہے، اور ان کی قیادت میں دونوں ممالک کے تعلقات بہتر ہونے کی امید کی جا رہی ہے۔ بنگلہ دیشی میڈیا اور تجارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات دونوں ممالک کے لیے اقتصادی اور سیاسی طور پر فائدہ مند ثابت ہو سکتے ہیں۔
1971 کے بعد پاکستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات میں اتار چڑھاؤ دیکھنے کو ملا ہے، لیکن حالیہ پیش رفت سے دونوں ممالک کے درمیان دوستانہ تعلقات کا ایک نیا باب کھلنے کی توقع ہے۔