Monday, 17 November 2025 | Web Desk
غزہ جنگ بندی کےبعدفلسطینیوں کی مشکلات میں کمی کی امیدیں تاحال پوری نہیں ہوئیں ۔ اس کی پہلی وجہ تومختلف حیلوں بہانوں سےفلسطینیوں پراسرائیل کےباربارحملےہیں تودوسری وجہ قدرتی حالات ہیں ۔
غزہ میں موسم سرماکی پہلی بارش نےکھلےآسمان تلےخیموں میں پناہ لئےفلسطینیوں کی مشکلات میں کئی گنااضافہ کردیا۔ شدیدبارش کےبعدپناہ گزینوں کے ہزاروں خیمے ڈوب گئے۔ لاکھوں بے گھرفلسطینی شدیدسردی میں امداد کےمنتظرہیں لیکن سفاک اسرائیل نےغزہ میں انسانی امدادکاراستہ ایک بارپھرروک رکھاہے۔ امدادی سامان لےکرآنےوالےٹرکوں کوغزہ میں داخلےسےروکاجارہاہے۔
غزہ میں بارش کے پانی کی نکاسی کاکوئی بندوبست نہیں ۔ فلسطینیوں نےخیموں کو پانی سے بچانےکیلئےآس پاس گڑھے کھودنا شروع کردیے ۔
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے فلسطینی پناہ گزین انروا کے مطابق 13 لاکھ فلسطینیوں کی مدد کا سامان موجود ہےلیکن اسرائیل اس سامان کوجانےنہیں دےرہا۔ انروا کے سربراہ کے مطابق سخت سردی اور بارش میں امداد کی فراہمی پہلے سےبھی زیادہ ضروری ہوگئی ہے۔ تباہ شدہ عمارتوں میں پناہ لیے فلسطینیوں کو ان عمارتوں کے منہدم ہونے کا خطرہ بھی لاحق ہے۔
دوسری طرف اسرائیل کی غزہ جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیاں بھی جاری ہیں۔ عرب میڈیا کے مطابق جنوبی غزہ میں خان یونس میں اسرائیلی بمباری سے 3 فلسطینی شہید ہوگئے۔ رواں سال 10 اکتوبر کو جنگ بندی نافذ ہونے کے بعد سے اب تک اسرائیلی فورسز 274 سے زائد فلسطینیوں کو شہید کرچکی ہیں جبکہ 1500 عمارتوں کو بھی تباہ کیا جاچکا ہے ۔