مانیٹرنگ ڈیسک/ویب ڈیسک/نمائندگان خصوصی | اگست 30, 2025
پنجاب میں خوفناک سیلاب نےتباہی مچارکھی ہے ۔ قصور، سرگودھا، جھنگ، چنیوٹ ، عارفوالہ، قبولہ ، لودھراں، راجن پوراوردیگرعلاقوں میں ہزاروں دیہات اورلاکھوں ایکڑرقبےپرکھڑی فصلیں سیلابی پانی میں ڈوب کرتباہ ہوچکی ہیں ۔ کم ازکم 30 افرادجاں بحق اور15لاکھ سےزائدبےگھرہوچکے ۔ پنجاب میں سیلاب کی تباہ کاریوں پرتفصیلی رپورٹ پیش خدمت ہے۔
سینئرصوبائی وزیرمریم اورنگزیب کے مطابق دریائے، ستلج ، راوی اورچناب کے سیلابی پانی سے دو ہزار38 موضع جات متاثر ہوئے، دریائے چناب سے 1 ہزار 169، راوی سے 462 اور ستلج میں سیلاب سے 391 موضع جات متاثر ہوئے۔ زیادہ ترتباہ کاریاں وہاں ہوئیں جہاں بستیاں دریاوں اورندی نالوں کےقریب آبادہیں ۔ ریلیف کمشنرپنجاب نبیل جاویدکہتےہیں 4 لاکھ 81 ہزارسیلاب متاثرین کو محفوظ مقامات پرمنتقل کیاجاچکاہے۔
بھارت سےمزیدپانی آئےگا
پی ڈی ایم اے کے ڈائریکٹر جنرل عرفان علی کاٹھیاکہتےہیں بھارت کا مادھوپور ہیڈورکس ٹوٹنے کے باعث مزید پانی آئے گا، جب تک پانی کی سطح کم نہیں ہوتی زیر آب مقامات پر پانی کم نہیں ہوگا۔
وزیراعلی پنجاب کی پی ڈی ایم اے آمد
وزیراعلی پنجاب مریم نواز پی ڈی ایم اےلاہورکے دفتر پہنچیں اور سیلاب پربریفنگ لی۔ڈی جی پی ڈی ایم اے نے انہیں ریلیف اور ریسکیو آپریشنز پربریفنگ دی۔ تمام متاثرہ اضلاع کےکمشنر اور ڈپٹی کمشنرز نے ویڈیو لنک پروزیراعلی کواپنےاپنےعلاقوں کی صورتحال سےآگاہ کیا۔

ڈرون اور اے آئی ٹیکنالوجی کا استعمال
وزیراعلی مریم نوازکی ہدایت پر سیلاب زدہ علاقوں میں ڈرون اور اے آئی ٹیکنالوجی کا استعمال پنجاب میں ریسکیو اینڈ ریلیف کا نیا رول ماڈل بن گیا۔
سیلاب میں پھنسے افراد کا پتا لگانے اور فوری مدد کی فراہمی کے لیے تاریخ میں پہلی بار ڈرون سروس کا استعمال کیاجارہاہے۔ دریائے راوی، چناب اور ستلج کے متاثرہ علاقوں کی ڈرون سے نگرانی جاری ہے، لائیو فیڈ لاہورمیں قائم مرکزی کنٹرول روم مانیٹرکررہاہے
سیلابی ریلےمیں ڈوبنےوالےکرنل اوران کی بیٹی مل گئے
سیالکوٹ سے فضائی آپریشن لاہورمنتقل
سیلابی صورتحال کے باعث سیالکوٹ ایئرپورٹ پر فضائی آپریشن عارضی طور پر معطل کردیاگیاہے۔پی آئی اے نے سیالکوٹ سے اپنا فضائی آپریشن لاہور ایئرپورٹ منتقل کر دیا ہے۔ مسافراپنی پروازوں کی بروقت معلومات اور اوقات کار کے لیے ایئر لائن کے کال سینٹر 786786111 سے رابطے میں رہیں۔
ملتان میں ہزاروں ایکڑپرچارےکی فصل تباہ، قیمتوں میں ہوشربااضافہ
ملتان میں دریائے چناب میں اونچے درجے کے سیلاب کےباعث ہزاروں ایکڑ پر لگی چارے کی فصل بھی تباہ ہوگئی۔ ایک اندازےکےمطابق اس سے90ہزارکےقریب مویشی متاثرہوئےہیں ۔ بڑےپیمانےپرچارےکی کمی کےباعث اس کی قیمتوں میں بھی ہوشربااضافہ ہوگیاہے۔
مارکیٹ میں سبز چارے کی قیمت میں 200 روپے فی من اضافہ ہوا ہے جبکہ سائیلج 600 سے 850 روپے من اور توڑی 500 سے بڑھ کر ساڑھے 600 روپے من تک پہنچ گئی۔
سرگودھا، بہاولپور اور دیگر فیلڈ اسپتالوں میں متاثرین کا علاج
سرگودھا،بہاولپور اور دیگر سیلاب زدہ علاقوں میں فیلڈ ہسپتال اورکلینک آن ویل میں مریضوں کو گھروں میں علاج اور ادویات کی سہولت دی جارہی ہے۔ سیلاب متاثرہ علاقوں میں تشخیص، مفت ادویات اورٹیسٹ بھی کئے جارہے ہیں۔
بعض مقامات پر فیلڈ ہسپتالوں کا طبی عملہ لائف جیکٹ پہن کر کام کرنےمیں مصروف دکھائی دیا۔ پنجاب پولیس بھی ریسکیو وریلیف آپریشن میں مصروف ہے۔ پولیس کے جوانوں نے سیلابی ریلے میں گھرے لوگو ں کو کشتیوں پر ریسکیو کیا، بہاولنگر اور دیگر علاقوں میں پولیس افسر اور جوان بوٹ کے ذریعے لوگوں کو سیلابی ریلے سے نکا لتے رہے، عوام نے ننھے بچوں کو گود میں لے کر ریسکیو کرنے والے پولیس مین کو خراج تحسین پیش کیا۔
سیلاب سےکون کون سےعلاقےزیادہ متاثرہوئے؟
بھارت کی آبی جارحیت کےبعدپنجاب کےتین دریاوں میں اس وقت سیلابی صورتحال ہے۔ ان تین دریاوں میں دریائےستلج ، راوی اورچناب شامل ہیں ۔
یہ کہناغلط نہ ہوگاکہ زیادہ تباہ دریائےستلج اورچناب سےملحقہ علاقوں میں ہوئی ۔ جہاں تک راوی کی بات ہےتوخبروں کےمطابق اس کاپانی اب کم ہورہاہے۔ قصورمیں ہیڈگنڈاسنگھ والاکےمقام پردریائےستلج میں گزشتہ رات تاریخ کاسب سےبڑاساڑھے3لاکھ کیوسک کاریلاٹکراگیا۔ گنڈاسنگھ والاکےنواحی بیشتردیہات کوپہلےہی خالی کرالیاگیاتھا۔
دریائےستلج نےعارفوالہ ، قبولہ ، لودھراں ، بہاولنگراوربہاولپورکےنواحی دیہاتوں کوبھی اچھاخاصانقصان پہنچایاہے۔ بہت سی جگہوں پرمتاثرین اپناگھربارچھوڑکرجاتےوقت آبدیدہ ہوگئے۔
جہاں تک چناب کی بات ہےتواس نےجھنگ اورچنیوٹ کی سینکڑوں نواحی بستیوں اورموضع جات کوڈبوکررکھ دیاہے۔ جھنگ شہرکوبچانےکیلئےدریائےچناب کےبندکوبھی ایک مقام پرتوڑاگیاجبکہ ریلوےٹریک کو3جگہ دھماکہ کرکےاڑایاگیا۔
سرگودھاکی تحصیل کوٹ مومن کےسیکڑوں دیہات اس وقت دریائےچناب کی زدمیں ہیں ۔ صورتحال کچھ ایسی ہےکہ سیلاب زدہ علاقوں میں تاحدنگاہ پانی ہی پانی دکھائی دےرہاہے۔ پاک فوج اورسول انتظامیہ کےریسکیوادارےسیلاب متاثرین کی دن رات مددمیں مصروف ہیں ۔
پنجاب بڑےجانی نقصان سےبچ گیا
سینئیر صوبائی وزیرمریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ 511 ریلیف اور 351 میڈیکل کیمپس متاثرین کی چوبیس گھنٹے مدد اور دیکھ بھال کر رہے ہیں، 6 ہزار 373 متاثرین ریلیف کیمپس میں ہیں، 4 لاکھ 5 ہزار سے زائد مویشیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا، مویشیوں کے علاج کے لئے 321 ویٹرنری کیمپ بھی کام کر رہے ہیں، 808 کشتیاں ریکسیو مشن میں شریک ہیں، چھتیس گھنٹوں میں 68 ہزار 477 لوگوں کو ریسکیو کیا گیا۔
مریم اورنگزیب نےکہا،وزیراعلیٰ مریم نواز شریف مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے ساتھ ہیں، عوام کی خدمت اور مدد کا تاریخی ریلیف آپریشن وزیراعلیٰ پنجاب کی براہ راست نگرانی میں تیزی سے جاری ہے، وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کے پیشگی حفاظتی انتظامات اور تجاوزات کے خلاف آپریشن کی وجہ سے تاریخ کے اتنے بڑے سیلاب میں بڑے جانی نقصان سے پنجاب بچ گیا۔