مانیٹرنگ ڈیسک ۔۔ اسٹیبلشمنٹ کا کوئی نظریہ نہیں،ان کا نظریہ صرف اورصرف اپنی اتھارٹی برقراررکھناہے۔ ہمیں اس پر اعتراض ہےاوررہے گا۔
ان خیالات کااظہارمولانافضل الرحمان نےکراچی میں نیوزکانفرنس کےدوران کیا ۔ کہاتحریک انصاف نےحکومت سےہونےوالےمذاکرات پراعتماد میں نہیں لیا۔ مدت پوری کرنے کا الیکشن کی شفافیت سے کوئی تعلق نہیں، مدت تو آمرانہ حکومتیں بھی پوری کرلیتی ہیں، بلکہ 10، 10 سال حکومت کرتی ہیں۔
سربراہ جےیوآئی نےکہااسٹیبلشمنٹ اب بھی اس بات پرمصرہےکہ ہم نےہی فیصلے کرنےاورتنائج مرتب کرنے ہیں،عوام کی کیاحیثیت؟ ایساکرکےوہ جمہوریت کامذاق اڑارہےہیں۔ جب اسٹیبلشمنٹ جمہوریت اورآئین کا مذاق اڑائے تو کیا لوگ ان پر تنقید نہیں کریں گے؟
مولانانےکہاہمیں شکایت سیاستدانوں سے ہے جو سمجھوتے کرکےتمام نظام ان کے حوالے کردیتے ہیں تاکہ ہمیں کچھ مل جائے۔ کیامعتبری اس طرح ملتی ہے؟
مولانا فضل الرحمٰن نے کہاآخراسٹیبلشمنٹ یا حکمرانوں کومدارس سے پنگا لینےکاکیاشوق چرایاہے؟ کیوں ہر قیمت پر مذہبی طبقے کو اپنے مخالف کھڑا کرنا ہے، مدارس اپنے نظام تعلیم میں کسی قسم کی مداخلت تسلیم نہیں کریں گے۔
مولانا فضل الرحمان نے کہاخالد مقبول میرے لیے قابل احترام ہیں، وہ ایکٹ سمجھنے میرے گھرآئے،خالد مقبول وزیرتعلیم ضرورہیں لیکن میرے گھرپرزیرتعلیم ہیں۔