ویب ڈیسک ۔۔ قومی ائیرلائن پی آئی اےنےساڑھےچارسال بعدیورپ کیلئےاڑان بھرلی ۔ پی کے749نے100فیصدبکنگ کےساتھ پیرس کیلئےٹیک آف کیا۔ جہازمیں 323مسافرسوارتھے۔
یورپ کیلئےپروازوں کی بحالی کی تقریب سےخطاب کرتےہوئےوزیر دفاع خواجہ آصف نےکہاقومی ائیر لائن کے منافع بخش روٹس پھرسےکھل گئےہیں ۔ نجکاری کیلئےیہ بہترین وقت ہے۔
خواجہ آصف نےکہاقومی ائیرلائن پاکستانیوں کی میتیں بغیر کسی چارجز کے مفت لے کر آتی تھی لیکن فلائٹ آپریشن بند ہونے سے اوور سیز پاکستانی اس سہولت سے محروم ہو گئے۔ پورے یورپ کے لیے قومی ائیر لائن کی پروازیں بحال ہو گئی ہیں، یورپ کی فضاوں میں ایک بار پھر سبز ہلالی پرچم لہرانا شروع ہو گیا۔
خواجہ آصف غیر ذمہ دار بیان سے قومی ائیر لائن کو اربوں کانقصان پہنچانےوالےسابق وزیرکےاحتساب کامطالبہ کیا۔
یادرہےتحریک انصاف کےسابقہ دورحکومت میں وفاقی وزیرایوی ایشن غلام سرورخان نےقومی اسمبلی میں تقریرکرتےہوئےپاکستانی پائلٹس کی ڈگریوں کومشکوک قراردیاتھا۔ ان کےاس بیان کےبعدیورپ نےپی آئی اےکی پروازوں پرپابندی لگادی تھی۔
غلام سرورخان نےاس وقت کہاتھاکہ تحقیقات سے پتہ چلا ہےملک کے 860 فعال پائلٹس میں سے 260 سے زائد کے یا تو جعلی لائسنس ہیں یا انہوں نے اپنے امتحانات میں چیٹنگ کی۔
انہوں نےیہ بیان 2018میں کراچی میں ہونےوالےپی آئی اےجہازکےکریش کےتناظرمیں دیا۔ اس حادثےکی تحقیقات میں جہازکےپائلٹ کی ڈگری کےحوالےسےکچھ سوالات اٹھائےگئےتھے۔