Home / عمران خان کی القادرٹرسٹ کیس سےمتعلق پیشگوئی

عمران خان کی القادرٹرسٹ کیس سےمتعلق پیشگوئی

190 Million pound case

ویب ڈیسک ۔۔ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے القادرٹرسٹ (190 ملین پاؤنڈ کیس) کا فیصلہ محض میرےاوپردباؤ ڈالنے کے لیے پچھلے کیسز کی طرح لٹکایا جا رہا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ یہ فیصلہ فوری سنایا جائے،جیسے پہلے عدت کیس اورسائفر کیس میں ان کا منہ کالا ہوا، اب بھی یہی ہوگا۔

عمران خان نے اڈیالہ جیل میں میڈیا اور وکلا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنی زندگی میں پاکستان کے تمام مارشل لا دیکھے ہیں جن میں ایوب خان، یحیٰی خان، ضیاالحق اور پرویز مشرف شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یحیٰی خان اور ضیاالحق کا مارشل لا پاکستان کی تاریخ کا بدترین مارشل لا تھا جس میں جمہوریت کو تباہ کیا گیا،پرویز مشرف نسبتاً زیادہ لبرل تھے۔

انہوں نے مزید کہا کہ جو کچھ آج ملک میں جمہوریت کے نام پر ہو رہا ہے، اس کا موازنہ صرف یحیٰی خان کے دور سے کیا جا سکتا ہے۔ مارشل لا میں سب سے پہلے جمہوریت، آزاد عدلیہ اور آزاد میڈیا کا گلا گھونٹ دیا جاتا ہے تاکہ آمروں کی غلط کاریوں پر آواز نہ اٹھائی جا سکے۔ آزاد میڈیا اور عدلیہ کی آزادی پر حملہ کیا جاتا ہے کیونکہ یہ دونوں عوامی مفاد میں کام کرتے ہیں۔

عمران خان نے کہاآج ملک میں جمہوریت کے نام پر جو مارشل لا نافذ کیا گیا ہے، اس میں یہ تمام فسطائی حربے بدرجہ اتم موجود ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ یہ کیسی جمہوریت ہے جس میں پاکستان کی سب سے بڑی اور مقبول پارٹی کے چیئرمین کا نام تک میڈیا پر لینے پر پابندی ہے؟

سابق وزیر اعظم نے کہا کہ جیسے حمود الرحمٰن کمیشن کی رپورٹ سے یہ بات واضح ہوئی تھی کہ یحیٰی خان نے اپنی طاقت کے لیے ملک کا نظام تباہ کیا، آج بھی یہی کچھ ہو رہا ہے۔ حکومت تحریک انصاف کو کچلنے کے لیے فارم 47 کی بوگس دھاندلی کا سہارا لے رہی ہے، جس سے ملک میں جمہوریت، قانون کی حکمرانی اور عدلیہ کی آزادی کا جنازہ نکل چکا ہے۔

عمران خان نے شہباز شریف کو صرف ایک کٹھ پتلی اور اردلی قرار دیا، اور کہا کہ مشرف دور میں شوکت عزیز زیادہ طاقتور وزیر اعظم تھے کیونکہ اس وقت دھاندلی کی وہ شدت نہیں تھی جو فروری 2024میں ہوئی ۔ انہوں نے کہا کہ القادر ٹرسٹ کیس ایک بے بنیاد کیس ہے جس میں کوئی میرٹ نہیں ہےاورانہوں نے اس فلاحی ادارے کو قوم کے بچوں کے لیے قائم کیا تھا، جس کاانہیں ذاتی طور پرکوئی فائدہ نہیں ہوا۔

عمران خان نے واضح طور پر کہا کہ وہ نواز شریف اور زرداری کی طرح این آر او نہیں لیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بشریٰ بی بی کا کسی سے کوئی رابطہ نہیں اور یہ محض پروپیگنڈا ہے، ہماری مذاکراتی کمیٹی ہی ان معاملات کو دیکھ رہی ہے۔

عمران خان نے ملک کی معیشت کی بدترین حالت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گروتھ ریٹ صفر ہے اور مصنوعی طریقے سے ڈالر کو قابو میں رکھنا کوئی معاشی کامیابی نہیں ہو سکتی۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں ترقی صرف اس صورت میں آ سکتی ہے جب سرمایہ کاری ہو، اور سرمایہ کاری کبھی بھی ایسے ملک میں نہیں آتی جہاں قانون کی حکمرانی نہ ہو، عدلیہ آزاد نہ ہو، اور دہشت گردی کا راج ہو۔

یاد رہے کہ عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے خلاف 190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ دوبارہ مؤخر کر دیا گیا تھا اور اب اس کی سماعت 13 جنوری کو کی جائے گی۔ اس کیس میں عمران خان پر الزام ہے کہ انہوں نے پی ٹی آئی کے دور حکومت میں برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی کے ذریعے وصول ہونے والی رقم کو قانونی حیثیت دی اور اس کے بدلے بحریہ ٹاؤن سے زمین اور پیسہ حاصل کیا۔

یہ بھی چیک کریں

DG ISPR Press Briefing on Pak Afghan border clash

آپریشن ضرب للحق، 297 افغان کارندےہلاک، 400 سےزائدزخمی

Saturday, 28 February 2026 | Web Desk آپریشن غضب للحق میں 297 طالبان رجیم کےاہلکاراورخوارج …