Home / سپریم جلدالیکشن کےموڈمیں

سپریم جلدالیکشن کےموڈمیں

supreme court of pakistan

ویب ڈیسک ۔۔ پنجاب اورخیبرپختونخوااسمبلیوں کےالیکشن کیلئےسپریم کورٹ میں ہونےوالی سماعت میں چیف جسٹس عمرعطابندیال نےاٹارنی جنرل سےکہاکہ وہ وزارت داخلہ اوردفاع سےپوچھ کربتائیں کہ کم سےکم وقت میں الیکشن کب ہوسکتےہیں؟

اس اہم کیس کی سماعت میں چیف جسٹس نےریمارکس دئیےکہ عدالتی کارروائی کسی کوفائدہ دینے کیلئے نہیں۔ شفاف الیکشن کیلئےسیاسی درجہ حرارت کم کرنےکا کہالیکن کسی فریق نےاس حوالےسےیقین دہانی نہیں کرائی۔

پی ٹی آئی کے وکیل علی ظفر نے کہا کہ وہ عدالت کو چئیرمین تحریک انصاف کی طرف سےمکمل یقین دہانی کرانے کیلئے تیار ہیں۔

بینچ کےرکن جسٹس جمال مندوخیل نےریمارکس میں کہاکہ جب آرڈر آف دی کورٹ جاری ہی نہیں ہوا تو صدر نے الیکشن کی تاریخ کیسے دی اورالیکشن کمیشن نے کیسے الیکشن شیڈول جاری کیا؟ آرڈر آف دی کورٹ نہیں ہے، آرڈر آف دی کورٹ پر تمام جج سائن کرتے ہیں۔

الیکشن کمیشن کے وکیل سجیل سواتی نےجسٹس مندوخیل کےسوالوں کاجواب دیتےہوئےکہاممکن ہے فیصلہ سمجھنے میں ہم سے غلطی ہوئی ہو۔ الیکشن کمیشن نے صاف شفاف انتخابات کے انعقاد کے لیےکوششیں کیں، اپنی سمجھ کے مطابق فیصلے پرعملدرآمد شروع کیا،صدر کی طرف سے تاریخ ملنے پر انتخاباتی شیڈول جاری کردیا۔

وکیل الیکشن کمیشن نےمزیدکہاکہ اسپیشل سیکرٹری داخلہ نے بتایا کہ سیاسی شخصیات کو سکیورٹی خطرات ہیں، وزارت داخلہ کے مطابق سکیورٹی خطرات صرف الیکشن کے دن نہیں، الیکشن مہم میں بھی ہوں گے، وزارت داخلہ نے عمران خان پر حملے کا بھی حوالہ دیا تھا، امریکی انخلا کے بعد افغانستان سے دہشت گرد حملے کر رہے ہیں۔

اس پرچیف جسٹس بولے کہ جو معلومات آپ دے رہے ہیں وہ سنگین نوعیت کی ہیں، کیا آپ نےیہ سب صدرمملکت کونہیں بتایاتھا؟اگرصدرپاکستان کو نہیں بتایا تو آپ نے غلطی کی ہے، صدرنے تاریخ الیکشن کمیشن کے مشورے سے دی تھی،خفیہ رپورٹس میں کہا گیا کہ علاقوں کو کلیئرکرنے میں 6 ماہ لگیں گے،سکیورٹی سے متعلق اعدادوشماربڑےسنجیدہ ہیں۔

وکیل الیکشن کمیشن نےکہاالیکشن کمیشن کے پاس خفیہ اداروں کی رپورٹس پرشک کرنےکی گنجائش نہیں، ایجنسیوں کی رپورٹس میں بتائےگئے حقائق کونظراندازنہیں کیاجاسکتا۔

چیف جسٹس نے کہا20 سال سے ملک میں دہشت گردی کا مسئلہ ہے، اس کے باوجود انتخابات ہوتے رہے ہیں، 90 کی دہائی میں 3 بار الیکشن ہوئے، 90 کی دہائی میں فرقہ واریت اور دہشت گردی عروج پر تھی، اٹھاون ٹو بی کے ہوتے ہوئے ہر3 سال بعد اسمبلی توڑ دی جاتی تھی، صدر مملکت کو یہ حقائق بتائے بغیر الیکشن کمیشن نے تاریخیں تجویز کیں۔

الیکشن کمیشن کےوکیل کاکہناتھاالیکشن کمیشن کوبتایا گیا فوج کی تعیناتی کے بغیر انتخابات میں سکیورٹی فراہم کرنا ممکن نہیں ہوگا، اسپیشل سیکرٹری داخلہ نےکہا کہ ان حالات میں پر امن انتخابات کا انعقاد نہیں ہوسکتا، سیکٹرکمانڈر آئی ایس آئی نے بتایا کہ کے پی میں کالعدم تنظیموں نے کچھ علاقوں میں ہولڈ بنا رکھا ہے، خفیہ رپورٹس میں بتایا گیا کہ مختلف دہشت گرد تنظیمیں سرگرم ہیں اورانہوں نےشیڈو حکومتیں قائم کررکھی ہیں،رپورٹس کے مطابق ان خطرات سے نکلنے میں 6 سے 7 ماہ لگیں گے۔ فنڈز اور اداروں کی معاونت ملے تودونوں صوبوں میں الیکشن کیلئےتیارہیں۔

جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ مختصر حکم نامے میں لکھا ہے کہ اختلافی نوٹ لکھے گئے ہیں، اختلافی نوٹ میں واضح ہے کہ جسٹس یحییٰ آفریدی اور اطہر من اللہ ہمارے فیصلے سے متفق ہیں، کیا جسٹس یحییٰ آفریدی اور جسٹس اطہر من اللہ کے فیصلے ہوا میں تحلیل ہو گئے۔

بدھ کوکیس کی سماعت شروع ہوئی توفاروق ایچ نائیک ایڈووکیٹ نےفل کورٹ بنانےکی استدعاکی جس پرچیف جسٹس نےکہاکہ آپ پی ڈی ایم کےوکیل ہیں ۔ فاروق نائیک نےکہاکہ وہ پیپلزپارٹی کےوکیل ہیں جوپی ڈی ایم کاحصہ نہیں۔

فاروق نائیک نےعدالت سےدرخواست کی کہ یہ کیس سننے سے پہلے اس بات کا فیصلہ ہونا چاہیےکہ فیصلہ 4/3 کا ہے، پہلے دائرہ اختیارکے معاملے پر فیصلہ کریں۔ پوری قوم ابہام میں ہے۔

جسٹس منیب اخترنےریمارکس دیےہیں کہ اختلافی نوٹ میں کہیں نہیں لکھاکہ فیصلہ 4/3 کاہے،اقلیت کسی قانون کے تحت خود کو اکثریت کا دعویٰ نہیں کر سکتی۔

وکیل الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ تاریخ مقرر ہوجائے تو اسے بڑھانے کا اختیار الیکشن کمیشن کا ہے، صرف پولنگ ڈےنہیں پورا الیکشن مؤخرکیا ہے۔

جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ گورنر اور صدرکی دی گئی تاریخ الیکشن کمیشن کیونکر تبدیل کرسکتا ہے؟ آئین میں واضح ہے انتخابات کی تاریخ کون دے گا؟

چیف جسٹس نےکہا الیکشن کمیشن کوسپریم کورٹ سے رجوع کرکے قائل کرنا چاہیے تھا، آپ آج ہی عدالت کو قائل کرلیں، کیا8 اکتوبرکیاکوئی جادوئی تاریخ ہے جواس روزسب ٹھیک ہوجائے گا؟8 اکتوبرکی جگہ انتخابات کی تاریخ 8 ستمبریا8 اگست کیوں نہیں ہوسکتی؟

چیف جسٹس نےواضح کیاکہ الیکشن کمیشن راستہ نہیں ڈھونڈ سکتا تو ہم ڈھونڈیں گے۔حکومت سے پوچھتے ہیں کہ انتخابات کے لیے 6 ماہ کا عرصہ کم ہوسکتا ہے یا نہیں؟

بدھ کےروزیہ پیشرفت بھی ہوئی کہ ن لیگ ، پیپلزپارٹی اورجےیوآئی ف کی کیس میں فریق بننےکی درخواست کوقبول کرلیاگیا۔ کیس کی مزیدسماعت جمعرات کےروزدوبارہ ہوگی۔

یہ بھی چیک کریں

NAB amendment case in Supreme Court

عمران خان کودکھانےپربڑی عدالت میں اختلاف

ویب ڈیسک ۔۔ نیب ترامیم کالعدم قراردینےکےخلاف کیس کی کارروائی براہ راست دکھانےکےمعاملےپرسپریم کورٹ میں …