ویب ڈیسک: پاکستان تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے اسٹیبلشمنٹ سے مبینہ مذاکرات پر پیدا ہونے والی قیاس آرائیوں کا دوٹوک جواب دے دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر پارٹی کے سینیئر رہنما اعظم سواتی کوئی کوشش کر رہے ہیں تو وہ ان کی ذاتی کاوش ہے، پارٹی بحیثیتِ تنظیم کسی ڈیل کا حصہ نہیں۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سلمان اکرم راجہ نے کہا، "اگر اعظم سواتی اسٹیبلشمنٹ سے کوئی راہ نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں تو وہ ان کی ذاتی حیثیت میں ہے، پی ٹی آئی بطور پارٹی ایسی کسی بات چیت میں شامل نہیں۔ اگر کوئی پیش رفت ہوئی بھی، تو وہ اصولوں اور آئین کی بنیاد پر ہی قابلِ قبول ہوگی۔”
انہوں نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی ہمیشہ شفاف انتخابات، آئین کی بالادستی، شخصی آزادیوں اور بنیادی حقوق کی بحالی کی داعی رہی ہے۔ "ہم چاہتے ہیں کہ اغوا جیسے غیرقانونی ہتھکنڈے بند ہوں، اگر کوئی عمل ان اصولوں کی طرف لے کر جاتا ہے تو ہم اُس کا خیرمقدم کریں گے، لیکن اگر کسی کو لگتا ہے کہ ہم ‘پتلی گلی’ تلاش کر رہے ہیں، تو وہ خوش فہمی میں ہے۔”
دوسری جانب، جے یو آئی کے سینیٹر کامران مرتضیٰ نے جیو نیوز کے ایک پروگرام میں پی ٹی آئی کے اسٹیبلشمنٹ سے ممکنہ روابط پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ان کے مطابق، اگر پی ٹی آئی اپوزیشن اتحاد کا حصہ بھی بننا چاہتی ہے اور ساتھ ہی اسٹیبلشمنٹ سے رابطے بھی قائم رکھنا چاہتی ہے تو یہ دوہرا رویہ اتحاد کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔
کامران مرتضیٰ نے واضح کیا کہ "ہمیں ان کے آپس کے رابطوں پر اعتراض نہیں، لیکن اگر دوہرا کھیل جاری رہا تو ہم اتحاد سے پیچھے ہٹنے پر مجبور ہوں گے۔”