Home / مریم کاہاتھ ملاناکیاروایت کی خلاف ورزی تھی؟

مریم کاہاتھ ملاناکیاروایت کی خلاف ورزی تھی؟

Maryam Nawaz handshake

ویب ڈیسک ۔۔ پنجاب کی پہلی خاتون وزیراعلیٰ مریم نوازنےاماراتی صدرشیخ محمدبن زیدالنہیان سےہاتھ کیاملایاکہ سوشل میڈیاپرآگ لگ گئی ۔ سیاسی مخالفین باالخصوص تحریک انصاف کےٹرولزاس بات کوخوب مرچ مصالحےلگاکرپیش کررہےہیں ۔ تاہم سنجیدہ لوگ یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیایہ خیرسگالی کےجذبےکااظہارتھایاپروٹوکول کی خلاف ورزی؟

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اوردیگرافراد نے وزیر اعلیٰ کے اس سفارتی اندازپرتنقید کرتےہوئےاستفسارکیاکہ آیامسلمان عورت ہونے کے ناطے انہیں غیر محرم مرد کے ساتھ ہاتھ ملانا چاہیے تھا؟

سفارتی دائرے میں مرداورخواتین کےدرمیان ہاتھ ملانے کاانحصار ثقافتی روایات، ذاتی ترجیحات اور سماجی اصولوں پر ہوتا ہے۔ عالمی سطح پر پروٹوکول کے تحت خواتین سفیروں سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ میزبان ملک کی روایات کا احترام کریں۔ تاہم، پاکستان کے معاشرتی اصولوں اور اسلامی ثقافت کے مطابق غیر محرم مردوں اور خواتین کے درمیان جسمانی رابطہ عموماً پسندنہیں کیاجاتا،اوراس کے بجائے متبادل طریقے جیسےکہ ہلکاساجھکنایادائیں ہاتھ کوسینےپررکھنااچھاسمجھاجاتاہے۔

پاکستان کی کئی سابقہ خواتین رہنماؤں بشمول سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو اور سابق وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے بھی عالمی سفارتی طریقوں کے تحت ہاتھ ملایا ہے، لیکن مریم نواز کا یہ انداز خاص طور پر نمایاں ہو گیا کیونکہ ان کا "ڈبل ہینڈشیک” (دونوں ہاتھوں کا استعمال)وجہ تنقیدبن گیا۔

جہاں ہاتھ ملاناعالمی سطح پرایک اچھاعمل سمجھاجاتا ہے،وہیں "ڈبل ہینڈشیک”یعنی ایک ہاتھ کو بازو یا کلائی پررکھناآپ کی دوسرےپرحاکمیت یابہت مضبوط تعلقات کاتاثردیتا ہے۔ یہ انداز اعلیٰ سطح کی سفارتی ملاقاتوں میں کم ہی استعمال ہوتا ہے کیونکہ اس کے غلط معنی نکلنے کااحتمال ہوتا ہے۔

مریم نواز کے اس ہینڈشیک نے ایک بحث کو جنم دیا ہے کہ آیا وہ سفارتی روایات کی پیروی کر رہی تھیں یا پروٹوکول کی حدود کو عبور کر گئی ہیں۔

یہ بھی چیک کریں

DG ISPR Press Briefing on Pak Afghan border clash

آپریشن ضرب للحق، 297 افغان کارندےہلاک، 400 سےزائدزخمی

Saturday, 28 February 2026 | Web Desk آپریشن غضب للحق میں 297 طالبان رجیم کےاہلکاراورخوارج …