ویب ڈیسک ۔۔ عمران خان کی حکومت پر پراپرٹی ٹائیکون اور برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی (این سی اے) کے درمیان 190 ملین پاؤنڈز کی وطن واپسی کے حوالے سے سوالات اٹھ رہے ہیں۔ اس معاملے میں ایک معاہدہ رازداری (ڈیڈ آف کانفیڈنشلٹی) سامنے آیا ہے جس پر اثاثہ ریکوری یونٹ (اےآریو) کے سربراہ مرزا شہزاد اکبر کے دستخط ہیں، اور اس معاہدے میں حکومت پاکستان کی براہِ راست مداخلت کی نشاندہی ہوتی ہے۔
یہ معاہدہ سپریم کورٹ کے رجسٹرار کے اکاؤنٹ کا بھی ذکر کرتا ہے اور اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ معاہدے کی تفصیلات اس وقت تک خفیہ رہیں گی جب تک قانوناً اس کے افشاء کی ضرورت نہ پیش آئے۔ اس معاہدے میں فریم ورک ایگریمنٹ، ضبط شدہ رقم کی وطن واپسی، اور غیر منقولہ جائیداد کی فروخت جیسے اہم نکات شامل تھے، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت پاکستان نے اس معاہدے کی رازداری کو برقرار رکھنے کا وعدہ کیا تھا۔
شہزاداکبر نے بارباریہ دعویٰ کیاکہ عمران خان کی حکومت کا اس معاملے میں کوئی کردار نہیں تھا، مگر معاہدے کے متن سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ حکومت پاکستان اس معاہدے میں مکمل طور پر ملوث تھی۔ معاہدے کی شق 2.4 میں واضح طور پر لکھا ہے کہ حکومت پاکستان فریقین کی رضامندی کے بغیر اس کی تفصیلات کسی کو نہیں بتائے گی، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت نے اس معاہدے میں مکمل طور پر مداخلت کی تھی۔
اس کے علاوہ، عمران خان کی حکومت نے پراپرٹی ٹائیکون کو بیرون ملک سفر کی اجازت بھی دی۔ 30 مارچ 2022 کو، جب عمران خان کی حکومت کا تختہ الٹنے میں چند دن باقی تھے، ٹائیکون کو 8 ہفتوں کی بیرون ملک سفر کی اجازت دی گئی تھی۔
عمران خان کی حکومت کی اس معاملے میں مداخلت کے شواہد برطانیہ کے دوروں میں بھی ملتے ہیں، جب شہزاد اکبر اور ٹائیکون کئی مرتبہ برطانیہ میں ایک ساتھ موجود تھے، جبکہ این سی اے ٹائیکون کے اثاثوں کی تحقیقات کر رہا تھا۔
دی نیوز نے پی ڈی ایم حکومت کے وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ سے بھی رابطہ کیا تاکہ اس بات کی تصدیق کی جا سکے کہ کیا شہباز شریف کی حکومت نے ٹائیکون کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) سے نکالا تھا، مگر انہوں نے اس کی تصدیق نہیں کی۔ اس معاملے میں مزید وضاحت کے لیے شہزاد اکبر کو سوالات بھیجے گئے تھے، لیکن انہوں نے اس پر کوئی جواب نہیں دیا، البتہ بعد میں انہوں نے جواب دینے کا وعدہ کیا۔
یہ تمام معلومات اس بات کی غمازی کرتی ہیں کہ عمران خان کی حکومت اس معاملے میں کافی حد تک ملوث تھی، جس پر اب سنگین سوالات اٹھ رہے ہیں۔