تاریخ: 2 جولائی 2025 | نیوز میکرز ویب ڈیسک
متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے اپنی مشہور زمانہ گولڈن ویزا اسکیم کو نئی جہت دےکربہت سےلوگوں کوایک بہت اچھی خبردی ہے۔ کیونکہ اب صرف سرمایہ کاری ہی نہیں بلکہ معاشی اور تکنیکی ترقی میں کردار ادا کرنے والے افراد کو بھی یواےای میں مستقل رہائش کی پیشکش کی جا رہی ہے۔
پہلے سرمایہ، اب مہارت!
JSB دبئی کے بانی اور ویزا سروسز ماہر گورو کیسوانی کے مطابق، کووِڈ-19 کے بعد یو اے ای حکومت کا ابتدائی ہدف بیرونی سرمایہ کاری حاصل کرنا تھا، جس کے نتیجے میں 2022-23 میں گولڈن ویزا زیادہ تر رئیل اسٹیٹ انویسٹرز کو دیا گیا۔
تاہم 2023-24 سے اسکیم کا دوسرا مرحلہ شروع ہوا ہے، جس میں سرمایہ کے بجائے مہارت، جدت اور دیرپا ترقی پربھی توجہ مرکوز کی گئی ہے۔ اب حکومت وزارت ثقافت، وزارت کھیل اور ابوظہبی رہائشی دفتر سمیت کئی اداروں کے ذریعے دنیا بھر سے باصلاحیت افراد کو دعوت دے رہی ہے کہ وہ چاہیں تویو اے ای کو اپنا دوسرا گھر بناسکتےہیں ۔
پاکستانی کیسے فائدہ اٹھا سکتے ہیں؟
یہ تبدیلی خاص طور پر ان پاکستانیوں کے لیے خوش آئند ہے جو درج ذیل شعبوں میں مہارت رکھتے ہیں:
- آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI)
- کلاؤڈ کمپیوٹنگ
- انٹرنیٹ آف تھنگز (IoT)
- پرائیویٹ ویلتھ مینجمنٹ
- بینکنگ و فنانس
- ماحولیاتی ٹیکنالوجی (Climate Tech)
ایسے پاکستانی پروفیشنلز جو ان شعبوں میں تجربہ رکھتے ہیں یا عالمی کمپنیوں کے ساتھ کام کرچکے ہیں، وہ اب یو اے ای میں گولڈن ویزا کے ذریعے دس سالہ رہائش حاصل کر سکتے ہیں۔
سرمایہ کاری اور رہائش — الگ الگ فوائد
یو اے ای گولڈن ویزا کی ایک بڑی خوبی یہ ہے کہ رہائش اور سرمایہ کاری کو قانونی طور پر الگ حیثیت حاصل ہے۔ یعنی اگر کوئی فرد پراپرٹی میں سرمایہ کاری کرتا ہے اور بعد میں وہ سرمایہ کسی اور شعبے میں منتقل کرنا چاہے، تو اس کا ویزا متاثر نہیں ہوگا۔ اس لچک نے ماہرین اور اعلیٰ عہدیداروں (جیسے CEOs، CTOs) کو خاص طور پر متوجہ کیا ہے۔
پاکستان کے نوجوانوں اور اسٹارٹ اپس کے لیے نیا موقع
یو اے ای اب صرف دولت مندوں کے لیے نہیں، بلکہ ابھرتے ہوئے اسٹارٹ اپ فاؤنڈرز، طلباء، اور ٹیکنالوجی میں مہارت رکھنے والے نوجوانوں کے لیے بھی دروازے کھول رہا ہے۔ پاکستانی یونیورسٹیوں کے ہونہار گریجویٹس، خاص طور پر وہ جو ٹیکنالوجی یا ماحولیات سے متعلق منصوبوں پر کام کر رہے ہیں، اس پروگرام کے لیے اہل ہو سکتے ہیں۔
اعداد و شمار کی روشنی میں
2023 میں صرف دبئی میں 158,000 افراد کو گولڈن ویزا جاری کیا گیا۔ ان میں سے:
- 40 فیصد سرمایہ کار تھے
- 22 فیصد بینکنگ، نان-بینکنگ، AI اور ماحولیات سے منسلک پروفیشنلز تھے
- باقی افراد کا تعلق تعلیم، کھیل، اور ثقافت جیسے مختلف شعبوں سے تھا
مستقبل میں مزید کیٹیگریز متوقع
کیسوانی کے مطابق، اگلے چند مہینوں میں گولڈن ویزا کی مزید کیٹیگریز متعارف کروائی جائیں گی — خاص طور پر AI، کلاؤڈ کمپیوٹنگ، اور Climate Tech میں کام کرنے والوں کے لیے۔
نتیجہ:
پاکستانی ماہرین، نوجوان انٹرپرینیورز، اور تجربہ کار پروفیشنلز کے لیے یہ ایک نایاب موقع ہے کہ وہ یو اے ای کی ترقی کا حصہ بنیں، وہاں کی مارکیٹ سے فائدہ اٹھائیں، اور بین الاقوامی سطح پر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوائیں۔
اگر آپ اس اسکیم سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں تو اپنی مہارتوں کو اجاگر کریں، درست دستاویزات تیار رکھیں، کسی مستند ایڈوائزر یا ویزا فرم سے رہنمائی حاصل کریں اوردنیاکےایک بہترین ملک میں رہائشی سہولتوں کافائدہ اٹھائیں۔