Home / پاکستانی سیاستدانوں کی بیویاں اورشوہرکہاں ہیں؟

پاکستانی سیاستدانوں کی بیویاں اورشوہرکہاں ہیں؟

Why don't see wives of Pakistani politicians?

Tuesday, 16 September 2025

دوستو، آپ نےاکثرنوٹ کیاہوگاکہ امریکااوردیگرمغربی ملکوں کےسیاستدان جب بھی پبلک کےسامنےآتےہیں ، کسی سیاسی تقریب میں شرکت کرتےہیں یاغیرملکی دوروں پرجاتےہیں ۔۔ ان کےساتھ ان کی بیویاں ضرورہوتی ہیں ۔۔آپ امریکی صدرٹرمپ کی بات کریں ، صدربائیڈن کاذکرکریں ، اوباماکویادکریں یابل کلنٹن کولیں ۔۔ آپ کوسب کی بیویوں کےنام اورچہرےتک یادہوں گے ۔۔

صدرٹرمپ تواپنی بیوی کےساتھ اس قدرچپکے ہوتےہیں کہ ان کےسابقہ دورمیں ایک دوبارتوخاتون اول میلانیاٹرمپ نےان کاہاتھ بھی جھٹک دیا ۔۔ فرانس کےصدرمیکرون کی بات کریں تووہ بھی ہمیشہ اپنی اہلیہ کےساتھ دکھائی دیتےہیں ، پچھلےدنوں ایک واقعہ بھی میڈیاکی خبروں کی زینت بنارہا ، جب مبینہ طورپران کی اہلیہ نے ہنوئی آمدپرجہازکی سیڑھیاں اترنےسےپہلےشوہر کےچہرےکواپنےہاتھ سےپرےدھکیل دیا۔۔

کینیڈاکےسابق وزیراعظم جسٹن ٹروڈواگرچہ اپنی اہلیہ کوطلاق دےچکےہیں لیکن وہ جب تک ساتھ رہے،ساتھ ساتھ دکھتےرہے۔۔
امریکہ کےموجودہ نائب صدرجےڈی وینس کی حالیہ دورہ بھارت میں بیوی اوربچوں کےساتھ وزیراعظم نریندرمودی سےملاقات کی ویڈیو دنیابھرمیں بہت باردیکھی گئی ۔۔

دوہزارسترہ میں برسلزمیں ہونےوالی نیٹوکانفرنس میں ایک خاص بات سب نےنوٹس کی ۔۔ اس کانفرنس میں شرکت کرنےوالےسربراہان مملکت کی بیویوں کاگروپ فوٹوبناتواس میں بہت سی خواتین کےساتھ ایک مردبھی کھڑادکھائی دیتاہے ۔۔ یہ صاحب لکسمبرگ کےگےوزیراعظم کےشوہرتھے۔۔

اسی طرح نیوزی لینڈکی سابق وزیراعظم جسینڈاآرڈرن بھی ہمیشہ آفیشلی اوران آفیشلی اپنےبوائےفرینڈکےساتھ دکھائی دیتیں، جن سےباقاعدہ شادی سےپہلےان کی بیٹی بھی پیداہوئی ۔۔

دوستو،یہ سب باتیں کرنےکاہمارامقصدیہ ہےکہ وہ ملک جن کےخاندانی نظام پرہم بہت تنقیدکرتےہیں ، وہاں کی ایک حقیقت یہ بھی ہےکہ حکمران اوراہم شخصیات اپنےاہلخانہ کےساتھ میڈیاکےسامنےآنےپرفخرکرتےہیں ، وہ اپنے فیملی مین ہونےکےتاثرکوعوام میں مقبولیت کاذریعہ سمجھتےہیں ۔۔

اب آجائیں ذراپاکستانی سیاستدانوں کی طرف ۔۔وزیراعظم شہبازشریف ۔۔جب بھی جاتےہیں ، جہاں بھی جاتےہیں ہمیشہ اکیلےجاتےہیں ۔۔ خاتون اول کوہم نےآج تک ان کےساتھ نہیں دیکھا ۔شادی شدہ ہونےکےباوجودغیرشادی شدہ لگتےہیں۔

صدرمملکت آصف زرداری کی بات کریں تو محترمہ بینظیربھٹوشہیدہوچکیں ، لہذااس جوڑےسےمتعلق کوئی بات کرنامناسب نہیں ۔۔
سابق وزیراعظم نوازشریف کی بات کریں تووہ ہمیشہ اپنی اہلیہ محترمہ کلثوم نوازکےساتھ دکھائی دیتےتھے ۔۔ نوازشریف پابندسلاسل تھےتوکلثوم نوازنےان کیلئےمہم بھی چلائی ۔۔کلثوم نوازاب اس دنیامیں نہیں اورنوازشریف بھی عملی سیاست سےکنارہ کش ہوچکےہیں ۔۔
موجودہ چیئرمین سینیٹ یوسف رضاگیلانی کی بات کریں توانہیں بھی ہم نےکبھی اپنی اہلیہ کےساتھ نہیں دیکھا ۔۔ ممکن ہے سیدگھرانہ ہونےکی وجہ سےخاتون پردہ کرتی ہوں اورپبلک کےسامنےآناانہیں پسند نہ ہو۔۔

اسپیکرقومی اسمبلی ایازصادق بھی ہمیں ہمیشہ اکیلےہی دکھائی دیتےہیں ۔۔ انہیں بھی شایدہی کسی نےاپنی اہلیہ کےساتھ دیکھاہو ۔۔
وزیراعلیٰ سندھ مرادعلی شاہ بھی کبھی اپنی اہلیہ کےہمراہ پبلک کےسامنےآناپسندنہیں کرتے۔۔
وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اوروزیراعلیٰ بلوچستان سرفرازبگٹی کی بیویاں بھی ممکن ہےپردہ کرتی ہوں ۔۔

جہاں تک بات ہےوزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی تو کچھ عرصہ پہلےتک وہ اپنےشوہرکیپٹن صفدرکےساتھ دکھائی دیتی تھیں لیکن اب عرصہ ہواکسی نےانہیں اپنےشوہرکےساتھ نہیں دیکھا ۔۔ معروف صحافی اعزازسیدکےمطابق کسی نےکیپٹن صفدرسے پوچھاکہ پہلےآپ مریم نوازکی گاڑی چلاتےدکھائی دےجاتےتھے،اب ایساکیوں نہیں؟ اس پرکیپٹن صفدرنےذومعنی جواب دیاکہ اب مریم نوازکی گاڑی چلانےوالےاوربہت لوگ آگئےہیں ۔۔

امریکہ اوردوسرےمادرپدرآزادمغربی معاشروں میں سیاسی رہنماخودکوایک مثال بناکرپیش کرتےہیں کیونکہ وہاں کےلوگ ان سےتوقعات وابستہ کئےہوتےہیں۔ ۔وہاں کاسیاستدان اسی لئےپھونک پھونک کرقدم رکھتاہےکیونکہ ان معاشروں میں عوام چاہےجومرضی کریں،لیڈرکیلئےغلطی کی کوئی گنجائش نہیں۔۔

کتنی عجیب بات ہےکہ خاندانی نظام کےٹھیکیدارہم بنتےہیں لیکن یہ دکھائی ہمیں وہاں دیتاہےجہاں ہمارےمطابق یہ سرےسےایگزسٹ ہی نہیں کرتا ۔۔۔۔

یہ ہمارےسیاستدانوں اورمغربی سیاستدانوں کاایک خاص اینگل سےتقابلی جائزہ تھا۔کسی کی ذاتی زندگی میں جھانکنےکاہمیں کوئی حق نہیں ، لہذاہم نےمحض اتنی ہی بات کی ہےجتنی کرنےکی اخلاقیات اورصحافتی اصول ہمیں اجازت دیتےہیں ۔ ۔لیکن یہ لوگ چونکہ پبلک فگرہیں اس لئےلوگ ان کی زندگی کاباریک بینی سےجائزہ لیتےہیں اوراسےڈسکس بھی کرتےہیں ۔

بطورایک شہری اورووٹرکےہمیں یہ کہنےکاحق حاصل ہےکہ وزیراعظم شہبازشریف ہوں ، وزیراعلی مریم نوازہوں یاملک کےدیگرسیاسی رہنما ۔۔۔ اپنےلائف پارٹنرکےہمراہ پبلک کےسامنےآئیں گےتوزیادہ اچھےلگیں گے،زیادہ معتبردکھائی دیں گے ۔۔مغرب کےاچھےاصولوں کی ہمارےہاں بھی تقلیدہونی چاہیے ۔۔۔

About Zaheer Ahmad

Muhammad Zaheer Ahmad is a senior journalist with a career spanning over 20 years in print and electronic media. He started from the Urdu language Daily Din, proceeding to Daily Times, where he stayed as sub-editor for 2 years. In 2008, he joined broadcast journalism as a Producer at the English language Express 24/7, and later to its major subsidiary, Express-News. Zaheer currently works there as a Senior News Producer. He is also the Managing Editor of newsmakers.com.pk. Zaheer can be reached at zaheer.ahmad.lhr@gmail.com

یہ بھی چیک کریں

B2 Bomber Pilots who bombed Iran

ایرانی تنصیبات پرحملہ کرنےوالےامریکی پائلٹس کی تصاویرسامنےآگئیں

Date: 23 جون 2025 | NewsMakers Special Report ایران کے انتہائی خفیہ اور مضبوط فردو،نطنزاوراصفہاں …