ویب ڈیسک: حکومت پاکستان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو 2026 کے نوبل امن انعام کے لیے نامزد کرنے کی باضابطہ سفارش کر دی ہے۔ حکومتی اعلامیے کے مطابق صدر ٹرمپ کی سفارتی کوششوں سے پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی میں نمایاں کمی آئی اور ممکنہ ایٹمی تصادم کا خطرہ ٹل گیا۔ پاکستان نے تسلیم کیا ہے کہ صدر ٹرمپ کی قیادت نے جنوبی ایشیا کو بڑے انسانی المیے سے بچایا، جبکہ مسئلہ کشمیر پر ان کی سنجیدہ دلچسپی کو بھی سراہا گیا۔
اسلام آباد حکومت نے ٹرمپ کو نہ صرف جنوبی ایشیا بلکہ مشرق وسطیٰ میں استحکام کا اہم کردار ادا کرنے والا رہنما قراردیااوران کی قیادت کو ’اصل ثالث‘کےلقب سے نوازا۔
دوسری جانب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ایک بیان میں کہا کہ انہیں روانڈا، کانگو، سربیا، کوسوو اور خصوصاً پاکستان و بھارت کے درمیان جنگ بندی کرانے پر نوبل انعام کا حق دار سمجھا جانا چاہیے۔
تاہم اس حکومتی اقدام پرحکومتی جماعت مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور سابق وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اپنے ردعمل میں لکھا کہ:
"امن کے عالمی چیمپئن کے طور پر پہچانے جانے کے لیے نوبل انعام جیتنا اہم نہیں، اگر صدر ٹرمپ غاصب صہیونیوں کی حمایت جاری رکھتے ہیں تو تاریخ انہیں چنگیز خان اور ہٹلر کے ساتھ کھڑا کرے گی۔”
سعد رفیق نے مزید کہا کہ اگر ٹرمپ واقعی چاہتے ہیں کہ امریکا کو ایک عظیم ریاست تسلیم کیا جائے، تو انہیں انصاف کا دوہرا معیار ترک کرتے ہوئے مظلوموں کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا۔ انہوں نے امریکی قیادت پر زور دیا کہ وہ مذہب، نسل اور خطے سے بالا تر ہو کر ہر قسم کی جارحیت اور دہشت گردی کو روکنے کے لیے عملی اقدامات کرے۔
خواجہ سعد رفیق کا کہنا تھا کہ خدا نے صدر ٹرمپ کو دوسرا موقع دیا ہے، اب یہ ان کے اپنے اختیار میں ہے کہ وہ ایک غاصب کے طور پر یاد رکھے جائیں یا ایک دوراندیش سیاست دان کے طور پر تاریخ میں جگہ بنائیں۔
Winning the #Nobel_Prize is not important for being recognized as a world champion of peace.
— Khawaja Saad Rafique (@KhSaad_Rafique) June 20, 2025
If they continue to support the #usurper_Zionists, history will always place #President_Trump and his associates in the dock with #Genghis_Khan and #Hitler. If they want America to be…