تاریخ: 7 جون 2025 | نیوز میکرز ویب ڈیسک
پاکستان ایئر فورس (پی اے ایف) کے اسلام آباد میں واقع ہیڈکوارٹر کے کامبیٹ آپریشنز سینٹر میں 7 مئی کی نصف شب ایک غیرمعمولی تناؤ محسوس کیا جانے لگا۔
ڈان نیوز کی رپورٹ کے مطابق، ریڈار اسکرینوں پر بھارتی فضائیہ (IAF) کے درجنوں لڑاکا طیارے شمالی سرحد پر جمع ہوتے دکھائی دیے، جن کی پروازیں جارحانہ عزائم کی غمازی کر رہی تھیں۔
چند ہی منٹوں میں پی اے ایف نے ہنگامی کارروائی کا آغاز کیا، اور جدید جے-10 سی طیاروں سمیت مختلف لڑاکا اسکواڈرنز کو فضاء میں بھیجا گیا۔ ان میں نمایاں کردار اسکواڈرن نمبر 15 — "کوبراز” — نے ادا کیا، جو پاک فضائیہ کے جدید ترین یونٹس میں شمار ہوتا ہے۔
تاریخی تصادم، بڑی فتح
ایک ماہ بعد، پاک فضائیہ نے اس بات کی باضابطہ تصدیق کی کہ کوبراز اسکواڈرن نے بھارت کے چھ جنگی طیارے مار گرائے۔
یہ فضائی جھڑپ گزشتہ نصف صدی کی سب سے بڑی فضائی معرکہ قرار دی جا رہی ہے، جس میں دونوں جانب سے 120 سے زائد طیارے شامل ہوئے۔
ڈان کے مطابق، پی اے ایف کے جے-10 سی طیاروں نے بھارتی رافیل، مگ-29، میراج 2000 اور ایس یو-30 ایم کے آئی طیاروں کو PL-15 BVR میزائلوں سے نشانہ بنایا۔ یہ میزائل اسکواڈرن 15 کے پائلٹس نے داغے، اور ان کی اس کامیابی پر جلد ایک اعزازی تقریب منعقد کی جائے گی۔
آپریشن سندور: انٹیلیجنس پر مبنی حکمت عملی
اندرونی ذرائع نے ڈان کو بتایا کہ یہ کاروائی ایک سوچی سمجھی جوابی حکمت عملی کا حصہ تھی۔ پی اے ایف کو بھارتی دراندازی سے متعلق قابل اعتماد انٹیلیجنس موصول ہوئی تھی، جس کے تحت چار دفاعی کاؤنٹر ایئر فارمیشنز تعینات کی گئیں۔
الیکٹرو میگنیٹک اسپیکٹرم مینجمنٹ سسٹمز کے ذریعے 60 سے زائد بھارتی طیاروں کی نگرانی کی گئی۔
اعلیٰ سطحی ذرائع کے مطابق:
"ہم نے یہ جنگ اپنی شرائط پر لڑی۔ جیسے ہی بھارتی طیارے فضاء میں آئے، ہمارا کمانڈ سینٹر مکمل متحرک ہو گیا۔ کوبراز نے درستگی اور مکمل کنٹرول کے ساتھ اپنے اہداف کو نشانہ بنایا۔”
رافیل طیارے — دشمن کا غرور، کوبراز کا پہلا ہدف
اس مشن میں بھارتی فضائیہ کے جدید ترین رافیل طیارے پہلے نشانے پر تھے۔ ایک عہدیدار کے مطابق:
"بھارتی سمجھتے تھے کہ رافیل گیم چینجر ہوگا، لیکن ہم نے اسے پہلا ہدف بنایا اور کامیابی سے تباہ کیا۔”
بھارتی حکومت نے ابتدا میں واقعے پر خاموشی اختیار کیے رکھی، مگر 31 مئی کو سنگاپور میں شنگریلا ڈائیلاگ کے دوران بھارت کے چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل انیل چوہان نے ان نقصانات کا اعتراف کیا، جس پر بھارت میں شدید تنقید ہوئی۔
کوبراز اسکواڈرن — ماضی سے حال تک
اسکواڈرن نمبر 15، جسے "کوبراز” کہا جاتا ہے، 1956 میں قائم ہوا اور 1959 میں پاکستان کی پہلی تصدیق شدہ فضائی فتح کا اعزاز حاصل کیا۔
1965 اور 1971 کی جنگوں سے لے کر سوویت-افغان تنازعے تک، کوبراز ہر اہم مرحلے پر پیش پیش رہا۔
2019 کے "آپریشن سوئفٹ ریٹورٹ” میں بھی کوبراز کے دو میراج طیاروں نے نپے تلے انداز میں بھارتی اہداف کو نشانہ بنایا۔
2022 میں، اسکواڈرن کو چین کے تیارکردہ جدید جے-10 سی طیارے فراہم کیے گئے، جنہوں نے یونٹ کو پی اے ایف کا فرنٹ لائن اسٹرائیک اسکواڈرن بنا دیا۔
ایئر چیف کی براہ راست نگرانی
موجودہ ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو خود اسکواڈرن 15 کے سابق کمانڈر رہ چکے ہیں۔
7 مئی کی رات وہ اسلام آباد میں موجود پی اے ایف کے آپریشن سینٹر سے اس مشن کی براہ راست نگرانی کر رہے تھے۔
ایک اعلیٰ فوجی افسر نے ڈان کو بتایا:
"کوبراز ہماری سب سے تیز دھار ہیں، ہر جنگ میں انہوں نے قوم کا دفاع کیا، اور 7 مئی بھی اس کی ایک شاندار مثال ہے۔”
فخر، وقار اور پیشہ ورانہ مہارت
کامرہ ایئر بیس پر آج فخر کی فضا قائم ہے، مگر ساتھ ہی پیشہ ورانہ سنجیدگی کا مظاہرہ بھی نمایاں ہے۔
پی اے ایف کے سرکاری بیان میں کہا گیا:
"اپنی شاندار تاریخ کے دوران، نمبر 15 اسکواڈرن نے ہمیشہ بے مثال عملی استقامت اور حربی مہارت کا مظاہرہ کیا ہے۔”